نئی دہلی : بہت جلد این سی ای آر ٹی کی کتابوں سے ’خالصتان‘ کا تذکرہ ہٹ جائے گا۔ دراصل گزشتہ ماہ شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی (ایس پی سی) نے نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ کو ایک خط لکھا تھا جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بارہویں درجہ کی کتاب سے خالصتان کے ذکر کو ہٹایا جائے۔ ساتھ ہی این سی ای آ ٹی کی کتابوں سے اس بات کا تذکرہ بھی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا جس میں سکھوں کو ’علیحدگی پسندوں‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق این سی ای آر ٹی نے اس خط کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بارہویں درجہ کی پالیٹیکل سائنس یعنی علم سیاسیات کی کتاب ’سوتنتر بھارت کی راجنیتی‘ (آزاد ہندوستان کی سیاست) سے خالصتان کا ذکر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کتاب کے ساتویں باب (علاقائی خواہشات) میں خالصتان کو لے کر بات کی گئی تھی۔
