سرینگر: نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان برائے جنوبی کشمیر لوک سبھا میں رول 377 کے تحت جموں وکشمیر کے ڈیلی ویجروں اور کنٹریکچول ملازمین کا معاملہ اُٹھایا اور ان کی مستقلی کیساتھ ساتھ تنخواہوں میں تفاوت دور کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ 60 ہزار سے زیادہ کنٹریکٹ ورکرز، سی پی ڈبلیو، ایچ ڈی ایف (ہاسپٹل ڈیولپمنٹ فنڈ) ورکرز، ایڈہاک ورکرز، سی آئی سی آپریٹرز، ہوم گارڈز، ٹرائبل سیزنز اسکول اساتذہ، سماگرا شکشا زونل کارڈنیٹر ،کنٹریکٹچول لیکچررز ، کنٹریکچول ہیلتھ ورکرز او رآشا ورکز کی حالت زار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مذکور عارضی ملازمین جموں و کشمیر کے مختلف محکموں میں کئی دہائیوں سے سخت پسینہ بہا رہے ہیں۔ ان عارضی ملازمین کو مختلف محکموں کی طرف سے ضرورت کی بنیاد پر معمولی اجرت پر رکھا جاتا ہے ۔
