نئی دہلی ۔ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بعض غیربی جے پی حکمراں والی ریاستوں نے جمعہ کو اس نئے طریقہ کار پر اعتراض کیا جو این پی آر کے عمل میں اختیار کیا جانا ہے لیکن مرکزی حکومت نے اپنے اقدامات کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ بعض جوابات جو عوام کو دینے ہیں، وہ لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہیں۔ راجستھان اور چند دیگر ریاستوں نے یہ اعتراضات مرکزی وزارت داخلہ کی طلب کردہ ایک روزہ کانفرنس میں کئے۔ اس کانفرنس میں مردم شماری 2021ء اور قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) کے مکانات کی فہرست تیار کرنے والے مرحلہ کے دوران اختیار کئے جانے والے طریقوں پر غوروخوض کیا گیا۔ یہ مرحلہ یکم ؍ اپریل سے 30 ستمبر 2020ء تک چلے گا۔ راجستھان چیف سکریٹری ڈی بی گپتا نے کہا کہ وہ اور بعض دیگر ریاستوں کے نمائندے چند سوالات پر معترض ہوئے جو معلومات حاصل کرنے والا سرکاری نمائندہ این پی آر عمل کے دوران عوام سے پوچھے گا۔ گپتا نے میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ہم نے این پی آر کے بعض سوالات کو غیرواجبی بتایا جیسے والدین کے مقام پیدائش سے متعلق سوالات ۔ ملک میں کئی لوگ ہیں جو نہیں جانتے کہ خودان کا مقام پیدائش کیا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم اس طرح کے سوالات کا مقصد کیا ہے اور ہم نے میٹنگ میں کہا کہ اس طرح کے سوالات حذف کردیئے جائیں۔
