!این پی آر پر تلنگانہ میں خفیہ عمل آوری کی تیاریاں

   

کے سی آر کی خاموشی سے شبہات میں اضافہ، میونسپل کارپوریشن میں عہدیداروں کی ٹریننگ کی تیاریاں، عوامی احتجاج بے اثر
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) ٹی آر ایس حکومت نے شہریت قانون، این آر سی اور این پی آر پر اپنے موقف کا آج تک اعلان نہیں کیا لیکن بلدی انتخابات کے پیش نظر وزیر داخلہ محمود علی نے تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا وعدہ کیا۔ وزیر داخلہ نے انتخابی مہم کے جلسوں اور رائے دہندوں کے لئے جاری کی گئی اپیل میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا وعدہ کیا لیکن دوسری طرف گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر این پی آر کی تیاریوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ مردم شماری کے انچارج عہدیدار اور ڈپٹی کمشنر سرکل 18 نے 18 جنوری کو ماتحت عملہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مردم شماری 2021 ء کی تیاریوں کے سلسلہ میں اسٹاف کے تقرر کی ہدایت دی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ رجسٹرار جنرل و سنسیس کمشنر آف انڈیا وزارت داخلہ نئی دہلی کے 17 ڈسمبر کو موصولہ مکتوب کے مطابق مردم شماری 2021 کے آغاز کے لئے عہدیداروں کی ٹریننگ کا عمل شروع کیا جائے گا ۔ اس سلسلہ میں ایک سرکل کے تحت 500 مردم شماروں کی ضرورت ہوگی۔ 31 جنوری تک مردم شماری میں حصہ لینے والے عہدیداروں کی تفصیلات طلب کی گئی ہے تاکہ انہیں مردم شماری 2021 ء کا سوپر وائزر یا مردم شمار مقرر کیا جائے ۔ مکتوب میں مردم شماری کو کامیاب بنانے تعاون کی درخواست کی گئی ۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے قومی آبادی رجسٹر یعنی این پی آر کی تیاری کے لئے یکم اپریل کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یکم اپریل سے ملک بھر میں مردم شماری کا عمل شروع کیا جائے گا جس کے تحت ہر خاندان سے تقریباً 22 مختلف امور کے بارے میں تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ ہر 10 سال میں ایک مرتبہ مردم شماری کی جاتی ہے تاکہ ملک کی حقیقی آبادی اور طبقات کی تعداد کے بارے میں حقیقی تفصیلات حکومت کے پاس دستیاب رہیں۔ سابق میں مردم شماری کے تحت عوام سے 15 امور پر مشتمل سوالنامہ پر کیا جاتا رہا لیکن قومی شہریت رجسٹر کی تیاری کیلئے مرکزی حکومت نے 22 امور پر مشتمل سوالنامہ تیار کیا ہے۔ اس میں کئی ایسے سوالات ہیں جن کا جواب عوام کیلئے آسان نہیں۔ سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے سوالنامہ کی مخالفت کی جارہی ہے۔ تلنگانہ میں برسر اقتدار پارٹی نے پارلیمنٹ میں شہریت قانون کے خلاف ووٹ دیا تھا لیکن حکومت نے تلنگانہ میں شہریت قانون پر عمل آوری کے علاوہ این آر سی اور این پی آر کے بارے میں ابھی تک باقاعدہ موقف کا اعلان نہیں کیا ہے۔ ایسے میں سرکاری محکمہ جات کی جانب سے خاموشی کے ساتھ این پی آر پر عمل آوری کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ مردم شماری کیلئے اسٹاف کا تقرر اور ان کی ٹریننگ اس بات کا ثبوت ہے کہ تلنگانہ میں حکومت مردم شماری کے نام پر این پی آر پر عمل آوری کے حق میں ہے۔ این پی آر دراصل این آر سی کی بدلی ہوئی شکل اور این آر سی کی سمت پہلا قدم ہے۔ ایسے میں تلنگانہ عوام کی بے چینی میں اضافہ ہوچکا ہے کیونکہ سرکاری سطح پر مردم شماری کی تیاری شروع ہوچکی ہے۔ ایک طرف وزیر داخلہ کا تیقن تو دوسری طرف سرکاری سطح پر مردم شماری کی تیاری دونوں میں عوام بھروسہ کریں تو کس پر ؟ ظاہر ہے کہ عہدیداروں کی کارروائیوں کو درست سمجھا جائے گا تاوقتیکہ حکومت این پی آر پر عمل نہ کرنے کا اعلان کرے۔ کیرالا اور مغربی بنگال کی حکومتوں نے عہدیداروں کو این پی آر پر عمل نہ کرنے کی واضح ہدایات دی ہیں۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح تلنگانہ میں بھی سیاہ قوانین کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت خاموشی کے ساتھ مرکز کے فیصلوں پر عمل کرنے کا من بناچکی ہے ۔