این پی آر پر ریاستوں کے اندیشے کم کرنے کی کوشش

   

Ferty9 Clinic

غیر بی جے پی ریاستوں سے مودی حکومت کا ربط ، یکم اپریل سے مردم شماری کیلئے دباؤ

نئی دہلی ۔ /14 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں کی جانب سے این پی آر کی مخالفت شدت سے جاری ہے ۔ مرکز کی مودی حکومت نے ریاستوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے این پی آر کو روبہ عمل لانے کیلئے کہا ہے ۔ کئی ریاستوں نے این پی آر پر اندیشے ظاہر کئے ہیں ۔ ان کے اندیشوں کو کم کرنے کیلئے مودی حکومت غیر بی جے پی ریاستوں کے چیف منسٹرس سے ربط پیدا کررہی ہے ۔ ان چیف منسٹروں نے این پی آر پر عمل آوری کے خلاف سخت تنقید کی ہے ۔ پنجاب ، کیرالا ، مغربی بنگال ، مدھیہ پردیش اور راجستھان یہ چند غیر بی جے پی حکمرانی والی ریاستیں ہیں جنہوں نے نیشنل پاپولیشن رجسٹر کے تعلق سے اندیشے ظاہر کئے ہیں اور اس عمل کو انجام دینے سے گریز کررہی ہیں ۔ ان ریاستوں نے مودی حکومت کے فیصلہ پر بھی تنقید کی تھی ۔ یکم اپریل سے /30 ستمبر تک این پی آر ڈاٹا اکٹھا کیا جائے گا ۔ مردم شماری کے ہاؤز لسٹنگ مرحلہ کے دوران شہریوں کا ڈاٹا اکٹھا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ این پی آر کی مخالف ریاستوں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے رجسٹرار جنرل اینڈ سنسیس کمشنر وویک جوش نے چیف منسٹر پنجاب امریندر سنگھ سے ملاقات کی اور آنے والی مردم شماری این پی آر کیلئے ان کی تیاری کی ستائش کی ۔ امریندر سنگھ نے مرکز پر زور دیا کہ وہ این پی آر کا عمل تاحکم ثانی روک دیں ۔ ریاستوں کو این پی آر کے تعلق سے جو اندیشے ہیں انہیں درست کرنے تک روبہ عمل نہ لایا جائے ۔ مرکز نے پہلے ہی کہا ہے کہ این پی آر شمار کنندگان کے سامنے والدین کی جائے پیدائش جیسے معلومات کا انکشاف کرنا اختیاری ہے ۔ پنجاب اسمبلی نے بھی شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اپنے اعتراضات پیش کرتے ہوئے قرارداد منظور کی ہے ۔ کمشنر وویک جوشی نے جو مردم شماری اور این پی آر کے عمل دونوں کی نگرانی کریں گے اُن تمام ریاستوں کے چیف منسٹرس سے ملاقات کرنے والے ہیں جو این پی آر کی مخالفت کررہی ہیں ۔
صدر ٹرمپ کی /25 فبروری کو ہندوستان کی