این ڈی اے میں شمولیت کیلئے بی آر ایس کی تیاری: ادنکی دیاکر

   

وزراء کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے استعمال کی تائید، کے سی آر خاندان کے علاوہ کسی کو پارٹی صدر بنانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 24 ۔ اپریل (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل ادنکی دیاکر نے ریاستی وزراء کی جانب سے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کے الزامات کو مسترد کردیا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ادنکی دیاکر نے کہا کہ سرکاری خرچ کم کرنے کیلئے وزراء ہیلی کاپٹر سے سفر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کو ہیلی کاپٹر کے استعمال کے بارے میں تبصرہ کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔ رکن قانون ساز کونسل کے مطابق تین ریاستی وزراء کے قافلے اگر روانہ ہوتے ہیں تو جو خرچ آئے گا ، اس سے کم خرچ تینوں وزراء کے ایک ہیلی کاپٹر روانگی سے ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تین وزراء نے ایک ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا ۔ دیاکر نے کہا کہ بی آر ایس کی طرح کانگریس کے پاس پرائیویٹ ایر کرافٹ نہیں ہے ۔ بی آر ایس نے کالیشورم کے معائنہ کے لئے عہدیداروں اور وزیٹرس کو ہیلی کاپٹر سے روانہ کیا تھا ۔ ایک دن میں 2 تا 3 سرکاری پروگراموں میں شرکت کرنا وزراء کیلئے آسان نہیں ہے ، لہذا وزراء نے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں ہیلی کاپٹرس اور خانگی طیاروں کا بے دریغ استعمال کیا گیا تھا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ورنگل میں بی آر ایس کی سلور جوبلی ہے یا پھر ٹی آر ایس کی ؟ بی آر ایس کے قیام کو صرف دو تین سال مکمل ہوئے ہیں۔ ایسے میں سلور جوبلی تقاریب ناقابل فہم ہے۔ کے ٹی آر نے بی آر ایس کو جنتا گیاریج قرار دیا۔ ادنکی دیاکر نے کہا کہ جنتا گیاریج فلم میں گیاریج کے اونر موہن لال کے فرزند ویلن تھے۔ اس کا مطلب کے سی آر کے فرزند کیا ویلن ہیں۔ بی آر ایس اور جنتا گیاریج ہے تو کیا کے ٹی آر اس کے ویلن ہیں؟ رکن کونسل نے کہا کہ گچی باؤلی اراضی کے معاملہ میں کے ٹی آر نے گمراہ کن پروپگنڈہ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھراپردیش چندرا بابو نائیڈو کی مدد سے کے ٹی آر این ڈی اے اتحاد سے قریب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی آر ایس کو این ڈی ا ے میں شامل کرنے کی مساعی کی جارہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر کے ٹی آر نے چندرا بابو نائیڈو کی تائید میں بیان بازی شروع کردی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ورنگل جلسہ عام کے موقع پر بی آر ایس کے صدر کے طور پر بی سی ، ایس سی یا ایس ٹی طبقہ کے کسی قائد کے نام کا اعلان کیا جائے۔ کے سی آر خاندان سے ہٹ کر کسی اور کو پارٹی صدر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی صدارت ریونت ریڈی کی جانب سے سنبھالنے کے دو سال میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا دوبارہ اقتدار ناممکن ہے۔1