ایوان اسمبلی میں مسلم نمائندگی بڑھانے کی کوشش

   

حیدرآباد۔25۔نومبر(سیاست نیوز ) ریاستی اسمبلی انتخابات میں مسلمان ایوان میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کرنے کی کوشش کے ساتھ ایسے امیدواروں کو ایوان میں پہنچانے کی مہم چلائیں جو عوام کے درمیان رہتے ہوئے ملک و ملت کی ترقی اور عوام کی فلاح بہبود کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ریاستی اسمبلی میں مسلمانوں کی تعداد میںاضافہ کے لئے اگر مسلمان مسلم امیدوار کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو ایسی صورت میں آئندہ اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوگا۔ ریاستی اسمبلی میں مسلم نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کے نام پر چلائی جانے والی تحریک اورمسلمانوں کو منقسم کرنے کے الزامات وہ لوگ عائد کر رہے ہیں جن کا مقابلہ مسلم امیدواروں سے ہے اور اگر ان حلقہ جات اسمبلی میں مسلم امیدوار بمقابلہ مسلم امیدوار ہوتا ہے اور ایسے میں کوئی بھی منتخب ہو مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہی ہوگا اور کوئی کمی واقع نہیں ہوگی بلکہ طاقتور جماعتوں سے نئے ارکان اسمبلی کا انتخاب ہوگا۔ ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس نے 6 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے جس میں حلقہ اسمبلی نظام آباد اربن سے جناب محمد علی شبیر ‘حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے جناب محمد اظہر الدین ‘ حلقہ اسمبلی نامپلی سے جناب فیروز خان‘ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے جناب شیخ اکبر ‘ حلقہ اسمبلی کاروان سے جناب عثمان بن محمد الہاجری ‘ جناب مجیب اللہ شریف کو حلقہ اسمبلی چارمینار سے امیدوار بنایا گیا ہے جبکہ برسر اقتدار جماعت بھارت راشٹرسمیتی نے محض 3 مسلم امیدوار میدان میں اتارے ہیں جن میں دو امیدوار پرانے شہر کے حلقہ جات اسمبلی چارمینار اور بہادرپورہ سے اتارے گئے ہیں جبکہ موجودہ رکن اسمبلی بودھن جناب عامر شکیل کو تیسری میعاد کے لئے اسی حلقہ سے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ مجلس نے اپنی 7نشستوں کے علاوہ جوبلی ہلز سے مسلم امیدوار کو میدان میں اتارا ہے جبکہ حلقہ اسمبلی راجندر نگر سے غیر مسلم امیدوار سوامی یادو کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔اسمبلی انتخابات میں مسلم رائے دہندوں کی اہمیت اور ان کی افادیت کو دیکھتے ہوئے انہیں متحدہ طور پر اپنے ووٹ کے استعمال کرنے کی تلقین کرنے والی مذہبی و ملی تنظیموں کی جانب سے اس مرتبہ مسلم نمائندگی میں اضافہ کے لئے بھی کوششیں کی جار ہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جہاں مسلم امیدوار ہیں وہاں مسلم امیدواروں کے انتخاب کویقینی بنایا جائے اور جہاں مسلم امیدوار بمقابلہ مسلم امیدوار ہوں ان حلقہ جات اسمبلی میں کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ کا استعمال کریں علاوہ ازیں نئے امیدواروں کو موقع فراہم کرتے ہوئے انہیں آزمایا جائے ۔ جمیعۃ علمائے ہند نے مکمل طور پر کانگریس کی تائید کا اعلان کیا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے 70 مقامات پر کانگریس کی تائید اورمجلس کے 7حلقہ جات اسمبلی میں مجلس کی تائید کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی جن 70مقامات پر کانگریس کی تائید کی گئی ہے اس میں جوبلی ہلز سے جناب محمد اظہر الدین اور نظام آباد اربن سے جناب محمد علی شبیر کو بھی تائید فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اسی طرح جمیعۃ علماء ہند (ارشد مدنی ) گروپ نے مجموعی طور پر بی آر ایس کی تائید کی ہے لیکن حلقہ اسمبلی نظام آباد اربن سے مسلم امیدوار کی تائید کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ جماعت اسلامی نے جن 40 نشستوں پر بی آر ایس کی تائید کی ہے اس میں 1 مسلم امیدوار جناب عامر شکیل کی تائید بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ملی تنظیموں کی جانب سے کانگریس کی تائید کے اعلان کے ساتھ ساتھ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ سے مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار کی تائید کا اعلان کیا جا رہاہے اور کئی ملی و مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کی جانب سے انہیں مکمل تائید کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔مذہبی و ملی تنظیموں کے ذمہ داروں کی جانب سے متحدہ طورپر ایوان میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کے اقدامات کے لئے ممکنہ کوشش کی جار ہی ہے جبکہ سیاسی مفادات حاصلہ اپنی شکست کے خوف کی وجہ سے یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مسلم نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی جار ہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مذہبی ‘ ملی و سماجی تنظیموں اور مسلم دانشوروں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات کے سبب تلنگانہ اسمبلی میں مخصوص جماعت کے ارکان اسمبلی کے علاوہ زائد از 4مسلم ارکان اسمبلی کے انتخاب کی راہ ہموار ہوسکتی ہے ۔