ایودھیا تنازعہ معاملہ مختلف دانشوروں کا اظہار خیال

   

”لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ملک میں امن وامان رہے، مجھے ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ جو بھی اۓ گا وہ قابل قبول ہوگا، سب ٹھیک رہے گا، کیونکہ دونوں قومیں اسکےلئے تیار ہیں، اس ملک میں امن وامان رہے گا، ہم بھی امن وامان چاہتے ہیں، انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ہندو مسلمان میں اتحاد ہو، مسلمانوں میں بھی اتحاد ہو، ہندوستان کی سبھی قومیں مل جل کر رہیں، کوئی کسی سے تفریق نہ کرے کوئی کسی کے بارے میں برا نہ سوچے“

سراج الدین قریشی

انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر

یہ ازاد ہندوستان کا سب سے حساس معاملہ ہے، اس میں نہ صرف ملک کی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی لوگوں کی نگاہیں مرکوز ہیں، کسی بھی قسم کے ڈروخوف میں مبتلا ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، بلکہ آئین اور عدالتی نظام پر اعتماد ویقین ہونا چاہیے۔

مولانا خالد رشید فرنگی محلی

امام عیدگاہ لکھنؤ

ہرحال میں عدالتی فیصلہ کا احترام ہو

بابری مسجد ملکیت معاملہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انے والا ہے، اس وقت کہنا بے حد مشکل ہے کہ فیصلہ کن کے حق میں ائے گا، لیکن یہ معاملہ بہت پرانا اور الجھا ہؤا ہے، اس سے لوگوں کی آستھا اور مذہبی جذبات وابستہ ہیں، اسلئے یہ بہت ممکن ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو فوری طور پر قبول نہ ہو، کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ کوئی بھی فریق یکساں طور پر ممکن نہ ہو، اگر فیصلہ اکثریت کے حق میں اۓ تو پورے ملک میں جشن ہوگا۔ جبکہ دوسری کمیونٹی کی دل شکنی ہوگی، سب کو ضروی ہے کہ ہر حال میں فیصلہ کورٹ کا مان لیں، جیت کا جشن نہ ہار کا اجتماعی غم منائے، اگر کچھ انہونی حالات ہوۓ تو ملک کی اکثر ریاستوں میں وہ حال ہوسکتا ہے جو کشمیر کاہے۔

ایم ایم انصاری

سابق دائریکٹر جامعہ ہمدرد

فکر ہندوستان کی شبیہ کی کرنی چاہیے

یہ تنازع تقریباً ایک صدی سے چلتا آرہا تھا،اور ازادی کا سورج طلوع ہونے کے بعد نہ جانے کب رات کی تاریکی میں کچھ لوگوں نے خانہ خدا میں رام چندر جی کی مورتی رکھی، اس وقت کی حکومت اور مسلم قیادت نے کوشش کی مگر بہرحال مسجد کو تالا لگ گیا، یہ سب 1949ء میں ہوا اور 1956 کو تالا کھولا گیا، اور اسکے بعد جو بھی ہوا تاریخ اسکی گواہ ہے، جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے یہ بات انکے عقیدہ کا حصہ ہے کہ ایک جگہ جہاں مسجد تعمیر ہوتی ہے وہ ہمیشہ کےلیے مسجد ہی رہتی ہے، لیکن ہندوستان کے مسلمانوں کی مذہبی قیادت کو سلام کرتا ہوں کہ انہوں اخوت بھائی چارگی اور ملک کی سالمیت کےلیے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر بھروسہ رکھنے کی بات کہی، اور حزب اختلاف کی طرف سے اشتعال انگیز بیان بازی کے باوجود بھی مسلمانوں نے صبر کیا میں مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اسی موقف پر قائم رہیں۔

پروفیسر اخترالواسع