ایودھیا فیصلہ کے بعد مقامی عوام کو کسی گڑبڑ کی توقع نہیں

   

مقامی ہندو ۔ مسلمان امن اور ترقی چاہتے ہیں : ڈاکٹر بنرجی
ایودھیا۔7 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی تنازعہ کا عنقریب فیصلہ ہونے والا ہے جس کو لے کر عوام میں شک و شبہات پائے جاتے ہیں ۔ ایودھیا کے مقامی افراد کو توقع ہے کہ فیصلہ کے بعد کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔ تاہم ایودھیا میں واقع ڈاکٹر اندورنیل بنرجی کے مریضوں نے فیصلہ کے بعد ناگہانی حالات سے بچنے کیلئے زیادہ دوائیں دینے کی درخواست کی ہے ۔ ڈاکٹر بنرجی نے بتایا کہ انہوں نے مریضوں سے کہاکہ وہ اس بات کا یقین رکھیں کہ سب کچھ بہتر ہوگا ۔ اس وقت ایودھیا میں صورتحال کم و بیش معمول کے مطابق ہے ۔مقامی عوام میں کچھ شبہات ہیں لیکن وہ خوفزدہ نہیں ہیں ۔ ایودھیا میں خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو امن و امان اور ترقی چاہتے ہیں ۔ مندروں کے شہر کے ہندوؤں اور مسلمانوں کو یقین ہے کہ ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہوگا ۔ ڈاکٹر بنرجی نے کہا کہ جھگڑا اس وقت ہوسکتا ہے جب کوئی باہر کے عناصر آکر امن و امان میں خلل پیدا کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ پڑوسی اضلاع اور دور دراز مقامات سے ان کے پاس مریض آتے ہیں ۔ انہوں نے 15دنوں کیلئے دوائیں دینے کو کہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے ریٹائر ہونے سے پہلے 17 نومبر تک ایودھیا مقدمہ کا فیصلہ سنایا جائے گا ۔ ڈاکٹر بنرجی نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ اس تنازعہ کی دوستانہ ماحول میں یکسوئی ہوجائے گی ۔ ایودھیا کے عوام اس مسئلہ کی جلد از جلد یکسوئی چاہتے ہیں ۔ اس تنازعہ کے باعث ایودھیا کو زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ کاروبار فیض آباد کو منتقل ہوگیا ہے ۔ نئے صنعت کار اپنے یونٹس ایودھیا میں قائم کرنا نہیں چاہتے ۔ ایک دوکاندار نے بتایا کہ مارکٹ میں انحطاط کے باعث گذشتہ ایک سال سے ان کا کاروبار متاثر ہوا ہے ۔ مقامی ٹیچر نے بتایا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار نظر آتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ایودھیا میں صورتحال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے ۔