ایودھیا مسئلہ کے مستقبل کی نسلوں اور قومی سیاست پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے

   

ہندوستان کے کثیر مذہبی و کثیر ثقافتی دستوری اقدار کو ملحوظ رکھنے کی سپریم کورٹ سے مسلم فریقوں کی درخواست
نئی دہلی 21 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا میں رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کے کئی دہائیوں قدیم مقدمہ کے تمام مسلم فریقوں کو جن میں سنی وقف بورڈ بھی شامل ہے کہا ہے کہ ملک میں مستقبل کی سیاست میں ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ فیصلے کے اثرات مرتب ہوں گے۔ چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کے زیرقیادت پانچ رکنی دستوری بنچ پر ان مسلم فریقوں نے سربہ مہر لفافے پیش کرنے کے بعد عوام کے لئے یہ بیان جاری کیا ہے۔ مسلم فریقوں کے ایک وکیل راجیو دھون کی طرف سے تیار کردہ اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’اس مقدمہ کے مسلم فریق اس معزز عدالت سے کہنا چاہتے ہیں کہ معزز عدالت کا فیصلہ خواہ جو کچھ بھی ہو اس کے اثرات مستقبل کی نسلوں پر مرتب ہوں گے‘۔ عدالت عظمیٰ میں پیش کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’اس عدالت کا فیصلہ ان لاکھوں ذہنوں پر اپنے اثرات مرتب کرے گا جو اس ملک کے شہری ہیں اور ان دستوری اقدار پر یقین رکھتے ہیں جنھیں 26 جنوری 1950 ء کو ہندوستان کو جمہوریہ قرار دیئے جانے کے بعد سب نے قبول کیا تھا‘۔ بعض مسلم فریقوں کے بیان میں کہا گیا ہے اس فیصلے کے چونکہ دوررس اثرات مرتب ہوں گے چنانچہ وہ اپنے تاریخی فیصلے کو کچھ اس انداز میں ڈھالتے ہوئے جس سے اس عظیم ملک و قوم کے دستوری اقدار کی عکاسی ہوتی ہے‘۔ ان فریقوں نے مزید کہاکہ ’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے عمل کو کچھ اس انداز میں ڈھالا جائے کہ اس سے ہمارے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافت اقدار کی پاسداری ہوسکے۔ اس فیصلہ کو راحت بخش بنانا عدالت کی ذمہ داری ہے۔ اس فیصلے کو ایک راحت میں ڈھالتے وقت عدالت کو یہ بات بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ مستقبل کی نسلیں اس (فیصلہ) کو کس نظر / نظریہ سے دیکھیں گے‘۔ واضح رہے کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد ملکیت کے مقدمہ کے بعض ہندو اور مسلم فریقوں نے ہفتہ کو عدالت عظمیٰ میں اپنے تحریری بیانات داخل کیا تھا جس میں ’رام للا‘ کے وکیل نے ادعا کیا تھا کہ ہندو ایک زمانہ سے اس متنازعہ مقام پر پوجا کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ لارڈ رام کے مقام پیدائش پر کسی بات چیت کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے سیاسی طور پر حساس مقدمہ پر لگاتار 40 دن تک سماعت کے بعد 16 اکٹوبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کردیا تھا۔ بشمول رام للا اور سنی سنٹرل وقف بورڈ تمام فریقوں سے کہا تھا کہ اندرون تین دن تحریری مکتوب پیش کیا جائے۔