ایودھیا ملکیت مقدمہ سماعت کی قطعی آخری تاریخ مقرر

,

   

فیصلہ نومبر میں متوقع ‘ سماعت کی تکمیل کی آخری تاریخ 18 اکٹوبر ‘ سپریم کورٹ کا فیصلہ

نئی دہلی18 ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کو فیصلہ سنایاکہ بابری مسجد اراضی ملکیت تنازعہ کی سماعت کی قطعی آخری مہلت 18 اکٹوبر ہوگی جبکہ رام جنم بھومی ‘ بابری مسجد اراضی ملکیت تنازعہ ایک حساس سیاسی مسئلہ ہے۔ ممکن ہے کہ فیصلہ وسط نومبر میں سنایا جائیگا۔ دلائل کی سماعت ہندو اورمسلم فریقین کی جانب سے نمایاں اہمیت رکھتی ہے ۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی جو مقدمہ کی سماعت کرنے والی پانچ رکنی دستوری بنچ کی قیادت کر رہے ہیں 17نومبرکو اپنے عہدہ سے سبکدوش ہوں گے ۔ سپریم کوٹ نے یہ بھی کہا کہ تنازعہ کے فریقین خوشگوار طور پر معاملہ کی یکسوئی ثالثی کے ذریعہ کرسکتے ہیں بشرطیکہ وہ چاہیں لیکن دونوں فریقین وکلاء نے اس کی اطلاع دی ہے کہ وہ روز بروز سماعت کی 18 اکٹوبر تک تکمیل چاہتے ہیں تاکہ ججس کو تقریباً چار ہفتے کا وقت مل سکے اوروہ فیصلہ تحریر کریں ۔ عدالت نے منگل کے دن ہندو اور مسلم فریقین کے وکلاء سے خواہش کی تھی کہ وہ اس حساس مقدمہ کی سماعت کا وقت پر مبنی پروگرام طے کریں تاکہ دلائل کی سماعت کی تکمیل بروقت ہوسکے ۔ دستوری بنچ نیجسٹس ایس اے بوبڈے ‘ ڈی وائی چندراچوڑ‘ اشوک بھوشن اور ایس اے نذیر پر مشتمل ہے یہ بھی کہا کہ اسے سابق ایک مکتوب ایف ایم آئی خلیفتہ اللہ جج سے وصول ہواہے ‘ انہوں نے تین رکنی ثالثی کمیٹی کی قیادت کی تھی جس میں مبینہ طور پر بعض فریقن نے انہیں تحریر کیا تھا کہ ثالثی کے عمل کا احیاء کیا جائے ۔ بنچ نے کہا کہ یہ کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے ۔

ہمیں بھی ایک مکتوب وصول ہوا ہے کہ چند فریقین چاہتے ہیں معاملہ کی ثالثی کے ذریعہ یکسوئی کی جائے ۔ بنچ نے مزید کہا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں بشرطیکہ ثالثی کمیٹی کے اجلاس پر جو کچھ سماعت کی جائے اسے خفیہ رکھا جائے ۔ بنچ نے کہا کہ روز بروز کارروائی کی نومبر میں اپنی تکمیل کو پہنچ جائے گی یا آخری مرحلہ میں ہوگی بشرطیکہ سماعت روزانہ جاری رہے ۔ سپریم کورٹ نے 6 اگسٹ کو تبصرہ کیا تھا کہ روز بروز کارروائی اراضی تنازعہ کی حساس نوعیت کے پیش نظر ممکن ہے کہ ثالثی کی کارروائی کو جس کی پہل معاملہ کی خوشگوار یکسوئی کی کوشش ناکام ہوجائے‘ عدالت نے نوٹ کیا کہ تین رکنی کمیٹی کی رپورٹ بھی دستیاب ہوگی اور اس کو سینئر وکلاء پیش نظر رکھتے سکتے ہیں ۔ ان کے پیش نظر ثالث سری رام پنچو کی سفارشات بھی ہوسکتی ہیں کہ ثالثی کا فیصلہ اس معاملہ میں اس کے اجلاس پر زیر التواء رہنے کہ دوران مکمل کر دی جائے ۔ فریقین کی اپیلیں سپریم کورٹ میں 2010 کے ایودھیا (الہ آبادہائیکورٹ (کے فیصلہ کے نقول چاروں دیوانی مقدمات کے سلسلہ میں جو 2.77 ایکڑ اراضی سے متعلق تھیں داخل کی جاچکی ہیں تینوں فریقین سنی وقف بورڈ ‘ نرموہی اکھاڑا اور رام للا نے اپلیں پیش کر دی تھیں ۔ 6 ڈسمبر 1992 کو بابری مسجد جو متنازعہ اراضی پر 16 ویں صدی ء میں ایک شیعہ مسلم میر باقی کی جانب سے تعمیر کروائی کی گئی ‘ شہید کر دی گئی تھیجس سے ملک گیر سطح پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔