سپریم کورٹ سے انصاف کی توقع ، سارا ملک فیصلہ کا منتظر ، کرناٹک وزیر سی ٹی روی کا بیان
بنگلورو 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے سینئر لیڈر اور کرناٹک کے وزیر سیاحت سی ٹی روی نے بتایا کہ ایودھیا میں رام جنم بھومی کے متنازعہ مقام کے بارے میں کوئی ثبوت پیش کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ انھیں پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ہمیں انصاف ہی ملے گا۔ پورا ملک سپریم کورٹ کے فیصلے کا منتظر ہے۔ میں خود بھی اِس فیصلے کا بے تابی سے انتظار کررہا ہوں۔ ہمارا احساس ہے کہ ایودھیا میں رام کی جائے پیدائش واقع ہے اور اِس کے لئے کسی قسم کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہزاروں سال سے ہندوستانی عوام اِسی بھروسے کے ساتھ جی رہے ہیں۔ اُنھوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ عدالت کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے چہارشنبہ کے دن رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی ملکیت کے سیاسی طور پر حساس کیس کی سماعت مکمل کی ہے۔ عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ کرناٹک کے وزیر نے مزید کہاکہ وہ ایودھیا میں 1989 ء اور 1992 ء کو مقیم تھے اور وہ پھر ایک مرتبہ رام جنم بھومی کا دورہ کرنا چاہتے ہیں۔ جیسے ہی اِس کیس کا تصفیہ ہوجائے گا وہ رام جنم بھومی پہونچیں گے۔ ہندو فریقین کے چہارشنبہ کے دن سپریم کورٹ سے پرزور خواہش کی کہ سنی وقف بورڈ اور دیگر مسلم فریقین کی جانب سے داخل کردہ 1961 ء کے مقدمہ کو خارج کردے۔ انھوں نے کہاکہ مسلم فریقین یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر نے مسجد تعمیر کی تھی اور اِس مسجد کو وقف کے حوالہ کیا تھا۔ ایودھیا میں متنازعہ رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کے مقام پر کھلی اراضی پر مندر تعمیر کی گئی تھی۔ اِس کیس کا فیصلہ 17 نومبر کو کیا جانے والا ہے۔ اِس کے ایک دن بعد چیف جسٹس آف انڈیا اپنے فرائض سے سبکدوش ہوں گے۔