ایودھیا کا فیصلہ 4 ہفتے میں ہوجائے تو کرشمہ ہوگا

,

   

تنازعہ کی سماعت 18اکٹوبر کو مکمل کرنے کی ہدایت ،17 نومبر کو چیف جسٹس کی سبکدوشی

نئی دہلی 26 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ کی 32 ویں دن سماعت کے دوران جمعرات کو ایک بار پھر دہرایا کہ 18اکتوبر تک ہر حال میں سماعت پوری کرنی ہوگی۔اس معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی ،جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ،جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے کہا کہ وہ چاہتی ہے کہ 18اکتوبر تک ہر حال میں سماعت پوری ہو۔جسٹس گوگوئی نے تمام فریقوں سے اپیل کی کہ وہ طے شدہ مدت میں اپنے دلائل پورے کرلیں،کیونکہ انہیں فیصلہ لکھنے میں بھی کم از کم ایک ماہ چاہئے ۔ انہوں نے کہا،‘‘ہمیں فیصلہ لکھنے میں چار ہفتے لگیں گے ،اس لئے مقررہ مدت کو بڑھایا نہیں جاسکتا ۔اگر ہم ایسا کرپائیں تو یہ کرشمہ سے کم نہیں ہوگا‘‘۔واضح رہے کہ چیف جسٹس 17نومبر کو سبکدوش ہورہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں مسلم فریقوں کا یو ٹرن
ایودھیا اراضی تنازعہ کیس میں مسلم فریقوں نے جمعرات کو 2003 ء کی اے ایس آئی رپورٹ کے خلاصہ کی تحریر کے بارے میں سوال اُٹھانے پر اپنا موقف یکسر بدل دیا۔ اے ایس آئی رپورٹ نے کہا تھا کہ بابری مسجد سے قبل وہاں کوئی بڑا ڈھانچہ پایا جاتا تھا۔ مسلم فریقوں نے سپریم کورٹ سے معذرت خواہی کی کہ اُن کی وجہ سے عدالت کا وقت ضائع ہوا۔ دستوری بنچ کو سینئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نے بتایا کہ وہ اے ایس آئی رپورٹ کے خلاصہ کی تحریر پر سوال اُٹھانا نہیں چاہتے، جس نے بعض اشیاء ، مورتیاں، ستون اور دیگر باقیات بابری مسجد کے نیچے پائے تھے جو وہاں پر کسی بڑی عمارت کی موجودگی کا پتہ دیتے ہیں۔ مسلم فریقوں کے اِس بیان کی اہمیت ہے کیوں کہ فاضل عدالت نے چہارشنبہ کو اُن سے دریافت کیا تھا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) رپورٹ پر اُن کے اعتراضات اِس مرحلہ پر کس طرح قبول کئے جاسکتے ہیں جبکہ وہ الہ آباد ہائیکورٹ کے روبرو قانون کے تحت اُنھیں دستیاب قانونی طریقہ کار کو بروئے کار لانے میں ناکام رہے۔