ایودھیا کیس : اراضی ہندوؤں کو گفٹ کردینے مسلم گوشہ کی تجویز

,

   

سپریم کورٹ میں سماعت کیساتھ ثالثی کی تازہ سعی ۔ بعض دانشوروں کا گروپ کیس جیتنے کے بعد بھی اراضی ہندوؤں کو دینے کا حامی

نئی دہلی 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا ملکیتی مقدمہ کی روزانہ سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے جس کے ساتھ ساتھ ثالثی کی تازہ کوشش بھی شروع ہوگئی ہے۔ فاضل عدالت کا رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد کیس میں فیصلہ 17 نومبر کو اعلان کئے جانے کی توقع ہے۔ سپریم کورٹ میں یہ کیس اپنے قطعی مرحلہ میں پہونچ چکا ہے اور ایسے وقت مسلم دانشوروں کے گروپ نے اِس معاملہ کی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کرلینے کی اپیل کی ہے جس میں ایودھیا کی متنازعہ اراضی کو ہندوؤں کو گفٹ کردینے کا متبادل شامل ہے، چاہے مسلم فریق کو فاضل عدالت میں جاری قانونی کشاکش میں جیت کیوں نہ حاصل ہو۔ یہ گروپ خود کو ’انڈین مسلمس فار پیس‘ قرار دیتا ہے اور اِس میں سابق وائس چانسلر علیگڑھ مسلم یونیورسٹی لیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ جیسے دانشور شامل ہیں جو آرمی اسٹاف کے ڈپٹی چیف کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اُنھوں نے لکھنؤ کی ایک ہوٹل میں اِس گروپ کی طویل میٹنگ کے بعد این ڈی ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا اور مَیں حقیقت پسند ہوں۔ عدالت بھلے ہی مسلمانوں کے حق میں رولنگ دے، کیا ایودھیا میں مسجد بنانا ممکن ہوگا؟ میرے خیال میں یہ ناممکن ہے۔ ملک میں کشیدہ اور تناؤ بھرا ماحول دیکھتے ہوئے یہ ایک خواب ہی ہے جس کی تکمیل نہیں کی جاسکتی۔ فیصلہ ہمارے حق میں پانے کی صورت میں بھی مسلمانوں کے لئے یہ متبادل موجود ہے کہ اکثریتی برادری کو متنازعہ اراضی نہایت ٹھوس ضمانت کے عوض گفٹ کردی جائے کہ عبادت گاہوں سے متعلق ترمیمی قانون کو مضبوط بنایا جائے گا‘‘۔ رواں سال اگسٹ میں ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ ایودھیا کیس کے نہایت نمایاں مسلم فریقوں میں سے ایک نے اتفاق کرلیا تھا کہ متنازعہ مقام سے دستبرداری اختیار کرلی جائے گی لیکن وقت کی قلت کے سبب دیگر فریقوں کو عدالت کی مقررہ ثالثی کوشش میں متفق نہیں کرایا جاسکا اور نتیجتاً ثالثی ناکام ہوگئی۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ جو اِس کیس میں بڑا مسلم فریق ہے اُس نے عدالت کے مقررہ 3 رکنی ثالثی پیانل کو بتایا تھا کہ وہ 2.77 ایکڑ متنازعہ اراضی پر اپنی دعویداری سے دستبرداری کے لئے تیار ہیں لیکن اِس بات پر دیگر فریقوں کو متفق نہیں کیا جاسکا۔ لکھنؤ میں پریس کے ساتھ رابطہ میں انڈین مسلمس فار پیس کے ارکان نے اعتراف کیاکہ اُن کا اِس معاملہ میں عدالتی جدوجہد میں کوئی رول نہیں اور اُنھوں نے مقدمہ کے فریقوں کو بھی ابھی اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ لیفٹننٹ جنرل شاہ نے بتایا کہ اُن کا مقصد ملک کو اُس ضرورت سے روشناس کرانا ہے کہ عدالت سے باہر فیصلہ ملک میں سب کے لئے فائدہ مند رہے گا۔