ٹی آر ایس قیادت نے 2018 کے اسمبلی انتخابات میں
انہیں شکست دینے کی سازش کی تھی
حیدرآباد :۔ اسمبلی اور ٹی آر ایس کی رکنیت سے مستعفی ہونے والے ایٹالہ راجندر نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتہ دہلی پہونچکر بی جے پی میں شمولیت اختیار کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ کمیونسٹ اور سیکولر نظریات کو ماننے والے ہیں ۔ لیکن حالت نے انہیں بی جے پی میں جانے کے لیے مجبور کردیا ہے ۔ وہ اسپیکر اسمبلی پوچارام سرینواس سے ملاقات کرتے ہوئے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا مکتوب پیش کردیں گے ۔ ایٹالہ راجندر نے کہا کہ ان سے زیادہ وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ کی توہین کی گئی ۔ کئی سابق ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس قیادت نے نظر انداز کردیا ہے ۔ بیشتر ناراض قائدین ان سے رابطے میں ہیں ۔ سابق وزیر نے کہا کہ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں انہیں حضور آباد سے شکست دینے کی سازش کی گئی تھی لیکن وہ عوام کی تائید سے کامیاب ہوگئے ۔ ابھی سے ٹی آر ایس قیادت نے حضور آباد اسمبلی حلقہ پر توجہ مرکوز کردی ہے ۔ 50 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ ایٹالہ راجندر نے کہا کہ ان کی دہلی میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا سے ملاقات ہوئی ہے ۔ امیت شاہ سے صرف ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے ۔ وہ دہلی میں جب بی جے پی کے سینئیر قائدین سے ملاقات کی تھی تب ٹی آر ایس کے بی جے پی سے تعلقات پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں ۔ پوری طرح مطمئن ہونے کے بعد ہی بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرچکے ہیں ۔ ٹی آر ایس کے سابق ارکان اسمبلی ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لیے تیار ہیں ۔۔