ڈینگو سے اموات کی تردید مضحکہ خیز، تلنگانہ میںمیڈیکل ایمرجنسی کا مطالبہ
حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد اور کونسل کے سابق فلور لیڈر محمد علی شبیر نے وزیر صحت ایٹالہ راجندر کے اس بیان کو مضحکہ خیز قراردیا کہ تلنگانہ ریاست میں ڈینگو سے ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی ہے اور 90 فیصد بخار عام نوعیت کے ہیں۔ محمد علی شبیر نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ کسی چیز کو روک نہیں سکتے تو اس کی تردید کردیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ٹی آر ایس حکومت کا نیا منتر ہے۔ ایٹالہ راجندر ٹی آر ایس میڈیکل کالج کے نئے پاس آؤٹ ہیں اور فی الوقت ڈینگو اموات کی تصدیق پر میڈیکل پروفیشنلس کو تعلیم دے رہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر صحت کو جان لینا چاہیئے کہ وہ مسٹر ایٹالہ ہیں ڈاکٹر ایٹالہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تلنگانہ میں ڈینگو سے اموات واقع نہیں ہوئی ہیں تو جو بھی افراد کی موت واقع ہوئی اس کی حقیقی وجہ کیا تھی۔ اگر خانگی ہاسپٹلس خالص آمدنی کے مقصد سے کام کررہے ہیں تو وزیر صحت کی حیثیت سے آپ نے کیا کارروائی کی؟ ۔ محمد علی شبیر نے وزیر صحت کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ نہ صرف سرکاری بلکہ خانگی ہاسپٹلس میں ڈینگو کے علاوہ ملیریا اور ٹائیفائیڈ کے مریضوں کی بھر مار ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر صحت کی تردید سے سچ کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ حکومت کو بدنامی سے بچانے کیلئے بھلے ہی راجندر غلط بیانی سے کام لیں لیکن ڈینگو سے اموات ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ڈینگو سے اموات کے بارے میں مسلسل رپورٹس شائع ہورہی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وبائی امراض سے نمٹنے میں ناکام ٹی آر ایس حکومت اپنی غلطی چھپانے کیلئے عوامی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری دواخانوں میں بنیادی طبی سہولتوں کی کمی کے سبب عوام خانگی ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں جہاں ان سے بھاری رقومات حاصل کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو تلنگانہ میں میڈیکل ایمرجنسی کا اعلان کرنا چاہیئے۔