ہائی کمان کے موقف سے ناراض، کانگریس سے ربط میں ہونے کی اطلاعات
حیدرآباد: 20 جون (سیاست نیوز) بی جے پی میں ناراض سرگرمیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ موجودہ صورت بنڈی سنجئے کیخلاف بغاوت کرنے والے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر نے پیدا کی ہے جنہوں نے اچانک خاموشی اختیار کرلی اور خود کو پارٹی کی سرگرمیوں سے علیحدہ کردیا جس کے نتیجہ میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ ایٹالہ راجندر اور دیگر سینئر قائدین نے پارٹی ہائی کمان سے بنڈی سنجئے کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تلنگانہ میں پارٹی کا فرقہ وارانہ ایجنڈا عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔ بنڈی سنجئے کی جگہ کسی اور تجربہ کار اور تمام طبقات میں قابل قبول شخص کو صدارت کی ذمہ داری دی جائے۔ اس سلسلہ میں مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کے نام کی تجویز پیش کی گئی۔ ہائی کمان نے اچانک اپنا موقف سخت کرتے ہوئے واضح کردیا کہ بنڈی سنجئے کو الیکشن تک تبدیل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہائی کمان کے اس موقف کے بعد ایٹالہ راجندر نے خاموشی اختیار کرلی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ چند دنوں سے نہ صرف پارٹی سرگرمیوں بلکہ پارٹی آفس سے بھی دور ہیں۔ انہوں نے قطب اللہ پور میں عوامی رابطہ مہم میں آخری مرتبہ حصہ لیا تھا۔ راجندر نے گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں آسام کے چیف منسٹر ہیمنت بسوا شرما سے ملاقات کی تھی۔ ایٹالہ راجندر کو بی جے پی کی انتخابی تشہیری کمیٹی کا صدرنشین مقرر کئے جانے کی اطلاعات گشت کررہی ہیں لیکن راجندر کی ناراضگی سے ہائی کمان کا فیصلہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ راجندر کے علاوہ چند ماہ قبل کانگریس سے بی جے پی میں شامل کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی بھی پارٹی سرگرمیوں سے دور ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس قائدین نے بی جے پی کے ناراض قائدین سے ربط قائم کیا ہے اور مختلف امور پر بات چیت ابتدائی مرحلہ میں ہے۔ رکن پارلیمنٹ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے اپنے بھائی راج گوپال ریڈی کی گھر واپسی کا پہلے ہی اشارہ دیا ہے۔ر