ایٹالہ راجندر کی تائید میں دن بہ دن اضافہ

   

ایک سابق رکن پارلیمنٹ، سابق ایم ایل اے، سابق ایم ایل سی کی ملاقات
حیدرآباد : حکومت ایٹالہ راجندر کو وزارت سے برطرف کرنے کے بعد ایک طرف ان کی عوامی ہمدردی گھٹانے، دوسری طرف انھیں یکا و تنہا کرنے کے لئے تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ دوسری طرف ان کی عوامی تائید میں زبردست اضافہ ہورہا ہے۔ ایک سابق رکن پارلیمنٹ، ایک سابق رکن اسمبلی اور ایک سابق رکن قانون ساز کونسل کے علاوہ 22 سرپنچس اور دوسرے عوامی منتخب نمائندوں نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے ہر فیصلے میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے کا ایٹالہ راجندر کو تیقن دیا ہے۔ وزارت سے برطرف کرنے کے بعد سابق وزیر صحت اپنے مستقبل کی حکمت عملی میں مصروف ہیں۔ انھیں زبردست عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔ دو دن قبل سابق رکن پارلیمنٹ کنڈا ویشویشور ریڈی نے ایٹالہ راجندر سے ملاقات کی۔ کل ٹی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی اے رویندر ریڈی اور سابق ایم ایل سی راملو نائک نے بھی ملاقات کی۔ اس کے علاوہ بی سی تنظیم کے ورکنگ پریسڈنٹ سوامی گوڑ کی قیادت میں عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے ایٹالہ راجندر سے ملاقات کی۔ کریم نگر کے 300 ٹی آر ایس قائدین، سرپنچس، سابق سرپنچس، ایم پی ٹی سی، زیڈ پی ٹی سی ارکان، سابق ارکان نے بھی ایٹالہ راجندر سے ملاقات کی۔ دوسری طرف ایٹالہ راجندر کے حامیوں کے خلاف حکومت کی جانب سے کارروائی کی جارہی ہے۔ دو ماہ قبل ایڈوکیٹ جوڑے کے قتل کے الزام میں آج پولیس نے ایٹالہ راجندر کے کٹر حامی پداپلی ضلع پریشد کے صدرنشین پی مدھو کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ حضور آباد کے اے سی پی اور آر ڈی او کا تبادلہ کردیا گیا اور ایٹالہ راجندر کو یکا و تنہا کرنے کی ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔