ایٹالہ راجندر کی کمپنی کے خلاف عہدیداروں کی تحقیقات عدالت میں مسترد

   

نوٹس جاری کرتے ہوئے از سر نو تحقیقات کی جائیں، ہائی کورٹ کی رولنگ

حیدرآباد ۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمنا ہیچریز کے معاملہ میں ضلع کلکٹر اور عہدیداروں کی تحقیقات پر سخت اعتراض کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ کمپنی کو مناسب نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کی جائیں۔ مروجہ طریقہ کار کے مطابق کمپنی کو تحقیقات کیلئے نوٹس جاری کی جانی چاہیئے۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر کی اہلیہ کی ملکیت والی جمنا ہیچریز نے اراضی معاملہ میں حالیہ تحقیقات کو چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی۔ عدالت نے کہا کہ تحقیقات کیلئے عقبی راستہ کے بجائے باب الداخلہ سے پہنچ کر جانچ کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ یکم اور 2 مئی کو کی گئی تحقیقات کو قبول نہیں کیا جاسکتا اور حکومت کی رپورٹ قابل قبول نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ عہدیداروں نے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹس جاری کی گئی اور جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے میدک کے اچم پیٹ میں جمنا ہیچریز کی اراضیات سے متعلق یکطرفہ جانچ پر اعتراض کیا۔ سابق وزیر ایٹالہ راجندر کی اہلیہ کی ملکیت والے جمنا ہیچریز کی جانب سے تحقیقات کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گذار نے اراضی معاملہ کی قواعد کے مطابق از سر نو جانچ کی اپیل کی ہے۔عدالت نے اس درخواست کی سماعت کی اور ضلع کلکٹر میدک کی جانب سے زمین مالکین اور کمپنی کو نوٹس دیئے بغیر راتوں رات تحقیقات کرنے پر اعتراض جتایا۔ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت قانون کے مطابق کارروائی کرے گی۔ عدالت نے سوال کیاکہ چیف سکریٹری کی جانب سے تحقیقات کے سلسلہ میں احکامات کب موصول ہوئے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ 30 اپریل سے یکم مئی کے درمیان احکامات جاری کئے گئے اور رپورٹ پیش کی گئی۔ عدالت نے سوال کیا کہ کتنے گھنٹوں میں تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی۔ تحقیقات کے موقع پر کیا درخواست گذار سے وضاحت طلب کی گئی؟ ۔ عدالت نے یہ بھی سوال کیا کہ جمنا ہیچریز کو تحقیقات کے دوران کوئی نوٹس جاری کی گئی تھی یا نہیں۔ عدالت نے کہا کہ کم از کم نوٹس جاری کئے بغیر کس طرح تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ لینڈ ریوینو ایکٹ کے سیکشن 156 کے تحت عہدیداروں کو اراضیات کے معائنہ کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ کیا نوٹس کے بغیر راج بھون اور ہائی کورٹ کی اراضیات کی تحقیقات کی جاسکتی ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ کلکٹر نے عبوری رپورٹ پیش کی ہے۔درخواست گذار کے وکیل نے سماعت کے موقع پر حکومت کی جانب سے پروٹوکول کی خلاف ورزی کی نشاندہی کی۔