ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمہ سے متعلق مذاکرات

   

امریکہ اور روس کے ساتھ شامل ہونے سے چین کا انکار

بیجنگ ۔28؍اگست ( ایجنسیز ) چین نے امریکہ اور روس کے ساتھ سہ فریقی ایٹمی مذاکرات میں شمولیت کے امکان کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے انکار کر دیا۔میڈیا کے مطابق چین نے چہارشنبہ کو کہا کہ وہ امریکہ اور روس کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے سے متعلق مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ وہ بیجنگ کو بھی مذاکرات میں شامل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ٹرمپ نے پیر کوکہا تھا کہ امریکہ دونوں ممالک کے ساتھ ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے پر بات چیت کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے خیال میں ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ ایک بہت بڑا مقصد ہے، روس اس کیلئے تیار ہے اور ان کا خیال ہے کہ چین بھی تیار ہو جائے گا۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو پھیلنے نہیں دے سکتے اور ہمیں انہیں روکنا ہوگا۔سرد جنگ کے پرانے حریف روس اور امریکہ دنیا کے تقریباً 90 فیصد ایٹمی ہتھیاروں کے مالک ہیں تاہم 2023 میں ماسکو نے واشنگٹن کے ساتھ باقی رہ جانے والے آخری ہتھیاروں پر قابو پانے کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔جب ٹرمپ کے بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جی آکون نے کہا کہ ایٹمی صلاحیت کے لحاظ سے چین اور امریکہ ایک سطح پر بالکل نہیں ہیں، سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ممالک کو ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کیلئے اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔بیجنگ نے کہا کہ وہ اصولی طور پر ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے لیکن اس نے بارہا امریکہ کی طرف سے روس کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کی دعوت کو مسترد کیا ہے۔