سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ حکومتوں کی طرف سے لوگوں کی جاسوسی کے لئے سافٹ ویئر کا استعمال کرنا اچھنبے کی بات نہیں ہے لیکن ایپل جیسی کمپنی کا ‘پیگاسس’ جیسے سپائی ویئر کو نہ روک پانا باعث حیرانی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ایپل کمپنی لوگوں کی رازداری اور ڈاٹا کو محفوظ رکھنے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے لیکن دوسری طرف وہ ‘پیگاسس’ جیسے سپائی وئیر کو روکنے میں ناکام ہوئی ہے ۔ موصوف نے ان باتوں کا اظہار منگل کے روز اپنے ایک ٹویٹ میں کیا۔ ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا: ‘میں حکومتوں کی طرف سے سافٹ وئیر کو استعمال کر کے لوگوں کی جاسوسی کرنے پر حیران نہیں ہوں لیکن جو بات انتہائی حیران کن اور باعث مایوسی ہے وہ یہ ہے کہ ایپل جیسی کمپنی جو لوگوں کی رازداری اور ڈاٹا کو محفوظ رکھنے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے ، نے بھی ‘پیگاسس’ جیسے سپائی وئیر کی روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا’۔ قابل ذکر ہے کہ عالمی میڈیا کے ایک کنسورشیم (انجمن) کے ذریعہ لیک ہوئے ڈیٹا پر مبنی ایک تحقیقات سے یہ ثبوت ملے ہیں کہ اسرائیل میں مقیم سائبر فرم این ایس او گروپ کے تیار کردہ ملٹری گریڈ سپائی ویئر کا صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاسی اختلافات رکھنے والوں کی جاسوسی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔