وائرس کو روکنے میں بھی مددگار، سان فرانسسیکو میں تحقیق
حیدرآباد۔/17 نومبر، ( سیاست نیوز) انسانی جسم میں موجود قدرتی مدافعتی نظام کے ذریعہ جسم میں ہونے والی کرشماتی تبدیلیوں پر تحقیق سے ایچ آئی وی سے نجات کی دوا تیار کی جارہی ہے۔ تازہ جانکاری میں ایک شخص کی تلاش کرلی گئی ہے جو بغیر ادویات کے ایچ آئی وی سے نجات پانے والا دنیا کا دوسرا شخص ہے۔ اس شخص کا پتہ چلانے کے بعد سان فرانسیسکو کے سائینسدانوں نے اپنی تحقیق کا آغاز کردیا ہے۔ کئی سال تک مسلسل تحقیق اور طریقہ علاج کو تلاش کرنے کے بعد ایچ آئی وی کیلئے اینٹی ریٹرووائرل ڈرگ کی ایجاد کی گئی تاہم وائرس کو پھیلنے سے روکنے اور اس پر قابو پانے کے علاوہ یہ دوا بھی مرض سے نجات دلانے میں اثر انداز ثابت نہیں ہوئی یعنی ایچ آئی وی کا کوئی مکمل علاج نہیں مل سکا۔ تاہم اب دنیا میں ایسے دوسرے شخص کی شناخت کرلی گئی ہے جو بغیر دوا ، بغیر علاج کے ایچ آئی وی سے نجات حاصل کرچکا ہے۔ سائینسدانوں کے مطابق جسم میں موجود مدافعتی نظام ہی بیماریوں کو دفع کرنے کے علاوہ انہیں مکمل طور پر ختم بھی کرسکتا ہے۔ بعض افراد میں اس طرح کا مدافعتی نظام پایا جاتا ہے جو وائرس کا مکمل طور پر خاتمہ کردیتا ہے۔ اس طرح کے افراد کو ایلاٹسٹ کنٹرولر کی شناخت دی گئی ہے جس میں وائرل ریزوائر کے اندر موجود مدافعتی نظام سے متعلق خلیہ دوا کے بغیر ہی وائرس کا خاتمہ کردیتے ہیں۔ اس طرح کے کرشماتی نظام والے افراد کو ٹیریلائزنگ کیور کی شناخت دی گئی ہے۔ اس طرح سے صحت یاب ہونے والے افراد سے حاصل کردہ 119 کروڑ خون کے خلیوں اور 50کروڑ خون کے خلیوں کے حالات کی جانچ کرنے کے بعد یہ نتیجہ حاصل کیا گیا کہ ان افراد میں ایچ آئی وی جنیوم کا کہیں وجود نہیں ملا۔ سائینسدانوں کا ماننا ہے کہ ایلائیٹ کنٹرولرس ٹیریلائزنگ کیور کس طرح سے اثر انداز ہوتا ہے اور ایڈس کا مسئلہ کس طرح حل ہوگا اس کی تحقیق میں کامیاب تجربات سے دوا تیار کی جاسکتی ہے۔ ع