ایچ ایم ڈی اے نائٹ سفاری پارک قائم کرنے کی تجویز سے دستبردار

   

جنگلی جانوروں کی دیکھ بھال ، اخراجات ، موسمی صورتحال ، فنڈز کی دستیابی اہم وجہ ، ایکو پارک کا جائزہ
حیدرآباد :۔ ایچ ایم ڈی اے نے حیدرآباد کے مضافات میں مجوزہ نائٹ سفاری پارک قائم کرنے کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گھنے جنگل کا قیام جس میں مختلف اقسام کے جانور اور پرندوں کو جمع کرنا اور رات میں ہی عوام کو داخلے کی اجازت دینے اور اس کی نگرانی کے ساتھ اخراجات کو برداشت کرنا ایک بہت بڑا بوجھ بن جانے کا سبب بن سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ملک کے واحد مجوزہ نائیٹ پارک کے قیام کی تجویز سے دستبرداری اختیار کی جارہی ہے ۔ بیرونی ممالک سے جنگلی جانوروں کو لانا اور ان کی پرورش کرنا بھی ایک چیلنج ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے نے نائٹ سفاری پارک قائم کرنے کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی ہے ۔ مختلف زاویوں سے جائزہ لینے کے بعد پتہ چلا ہے کہ موسم کی صورتحال بھی موزوں نہیں ہوگی ۔ اس کے بجائے ایچ ایم ڈی اے کے عہدیدار متحدہ ریاست میں تیار کردہ منصوبہ ایکوپارک کے قیام پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ ایچ ایم ڈی کے عہدیداروں نے دو سال تک مجوزہ نائیٹ سفاری پارک قائم کرنے کی کافی دوڑ دھوپ کی تھی تاہم ملک میں پہلی مرتبہ نائیٹ سفاری پارک اترپردیش کے نوئیڈا میں قائم کرنے کا 6 سال قبل اعلان کیا گیا تھا ۔ اس کیلئے نوئیڈا ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے 6 سال سے کوشش کی جارہی ہے ۔ تاہم فنڈز اس میں بہت بڑا مسئلہ ہیں ۔ جس کی وجہ سے کارروائی آگے نہیں بڑ پارہی ہے ۔ حیدرآباد کو سیاحتی مرکز میں تبدیل کرنے میں نائیٹ سفاری پارک مددگار ثابت ہونے میں معاون ثابت ہونے کی توقع کی گئی ہے ۔ ایک تو پہلے فنڈز کو اکٹھا کرنا ایک مسئلہ ہے اس کے علاوہ نائیٹ سفاری پارک کے قیام ، بیرونی ممالک سے جنگلی جانوروں کو مانگنا اور وہ جانور یہاں کے موسم کو برداشت کرپائیں گے کیا ؟ ان کی دیکھ بھال اور نگہداشت کے علاوہ دیگر امور کا جائزہ لینے کے بعد نائیٹ سفاری پارک کے قیام کی تجویز سے دستبرداری اختیار کرلی گئی ہے ۔ اس میں جی او III بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ ایچ ایم ڈی اے کے عہدیداروں کی جانب سے کوتوال گوڑہ میں جی او III کے حدود میں واقع 50 ایکڑ اراضی پر ایکو پارک قائم کرنے کی تیاریاں جاری ہیں ۔۔