حیدرآباد ۔ 22 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : مرکزی حکومت نے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں ’ مہلک مرض ایڈز ‘ سے ہونے والی اموات میں ریاست تلنگانہ کو چوتھا مقام حاصل ہے اور ریاست تلنگانہ میں مہلک مرض ایڈز سے روز بروز زیادہ سے زیادہ افراد متاثر ہورہے ہیں ۔ مرکزی وزارت صحت و منصوبہ بندی کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ سال 2018-19 میں ملک بھر میں مرض ایڈز سے جملہ 51,911 افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور سال 2019-2020 ماہ دسمبر تک جملہ 43,019 اموات پیش آئیں اور قومی سطح پر اموات کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ لیکن ریاست تلنگانہ میں اموات کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سال 2018-19 میں 2,925 افراد کی ریاست تلنگانہ میں مرض ایڈز سے اموات پیش آئیں اور سال 2019-20 میں ماہ دسمبر تک جملہ 4,278 اموات واقع ہوئی ہیں اس طرح گذشتہ سال کے مقابلہ میں جاریہ سال کے دوران صرف 9 ماہ میں اموات کی تعداد زبردست اصافہ ہوا ہے اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ اموات کی تعداد میں 32 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جب کہ 7.778 اموات کے ذریعہ ریاست مہاراشٹرا کو ایڈز کے ذریعہ اموات واقعات میں پہلا مقام حاصل ہے ۔ قومی انسداد ایڈز پروگرام کے مطابق گذشتہ سال ماہ دسمبر تک ملک گیر سطح پر 17.77 لاکھ افراد ایچ آئی وی کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا تھے اور اس تعداد کے منجملہ ریاست تلنگانہ میں 83,861 افراد شامل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکس ورکرس میں جنسی بیماریاں 25 فیصد زیادہ پائی جاتی ہیں اور بعد ازاں ایک مقام سے دیگر مقامات کو منتقل ہونے والے مزدوروں میں ان بیماریوں کا فیصد 17 پایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سیکس ورکرس کے ساتھ جنسی تعلقات کے دوران صرف 25 فیصد افراد ہی کنڈومس کا استعمال کررہے ہیں جب کہ مہلک مرض ایڈز سے متاثر ہونے کا پتہ چلنے کے بعد کچھ دنوں تک ادویات کا متاثرین استعمال کررہے ہیں اور درمیان میں ہی ادویات کا استعمال بند کردینے کی وجہ سے اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔۔