ایکس پر یورپی قوانین کے تحت تحقیقات شروع

   

ڈبلن، 17 فروری (یو این آئی) ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو یورپی یونین میں پرائیویسی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی پر تحقیقات کا سامنا ہے ، کیونکہ اس کے آرٹیفیشل انٹیلیجنس چیٹ بوٹ ”گروک” پر بغیر رضامندی ڈیپ فیک تصاویر بنانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔آئرلینڈ کی ڈیٹا پروٹیکشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پیر کے روز ایکس پلیٹ فارم کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک میں نافذ سخت ڈیٹا تحفظ قوانین کے تحت تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق تحقیقات کا محور یہ تعین کرنا ہے کہ آیا پلیٹ فارم پر متعلقہ افراد کی اجازت کے بغیر نجی یا جنسی نوعیت کی تصاویر تیار اور شیئر کی گئیں، جو نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ حکام نے خبردار کیا کہ ان تصاویر میں یورپی شہریوں، حتیٰ کہ بچوں کا ذاتی ڈیٹا بھی شامل ہو سکتا ہے ۔ گزشتہ ماہ ”گروک” نے اس وقت عالمی تنقید کو جنم دیا جب صارفین کی درخواست پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تصاویر میں ردوبدل کرتے ہوئے افراد کو برہنہ یا نامناسب لباس میں دکھانے کی مثالیں سامنے آئیں۔ محققین کے مطابق بعض تصاویر میں کم عمر افراد بھی شامل دکھائی دیتے ہیں۔ بعد ازاں کمپنی نے گروک پر کچھ پابندیاں عائد کیں، تاہم یورپی حکام نے انہیں ناکافی قرار دیا۔واضح رہے کہ چیٹ بوٹ گروک کو ایلون مسک کی آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپنی ایکس اے آئی نے تیار کیا ہے اور یہ ایکس پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب ہے ، جہاں اس کے جوابات عوامی طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
آئرش اتھارٹی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا ایکس نے یورپی یونین کے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی مکمل پاسداری کی ہے یا نہیں۔ پلیٹ فارم کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔