ایکناتھ شنڈے کا بیٹا پابندی کے باوجود مندر میں داخل

   

اجین : مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شنڈے کے بیٹے اور ایم پی شری کانت شندے پابندی کے باوجود یہاں مہاکالیشور مندر کے مقدس مقام میں داخل ہوئے، جس کے بعد ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا۔. حکام نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔اپوزیشن کانگریس نے سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام لوگوں کو لارڈ کے درشن کے لیے قطاروں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے جبکہ پابندی کے باوجود وی آئی پیز کو خصوصی مقدم مقام میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ذرائع نے بتایا کہ مہاراشٹر کے تھانے ضلع کے کلیان لوک سبھا حلقہ سے تعلق رکھنے والے ایم پی شری کانت شندے جمعرات کی شام اپنی اہلیہ اور دو دیگر افراد کے ساتھ بھگوان کی پوجا کرنے کے لیے خصوصی مقدس مقام میں داخل ہوئے۔اس کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی تنازعہ شروع ہو گیا، کیونکہ حرم میں عقیدت مندوں کے داخلے پر تقریباً ایک سال سے پابندی عائد ہے۔مہاکالیشور مندر بھگوان شیو کے لیے وقف ہے۔ یہ ملک کے 12 جیوترلنگ مندروں میں سے ایک ہے اور سال بھر عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد اس کا دورہ کرتی ہے۔کانگریس کے ایم ایل اے مہیش پرمار نے جمعہ کو اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ عام عقیدت مندوں کو بھگوان مہاکالیشور کے درشن کے لیے گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑا رہنا پڑتا ہے جبکہ پابندی کے باوجود وی آئی پیز کوخصوصی مقدس مقام میں داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ قواعد کے خلاف ہے اور ہم اس کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔مندر کمیٹی کے چیئرمین اور اجین ضلع کلکٹر نیرج کمار سنگھ نے کہاکہ کسی کو بھی خصوصی مقدم مقام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔