نئی دہلی: ایک عجیب و غریب کیس میں، ایک شخص کو یہاں کی ایک عدالت نے 55 ہزار روپے 1 اور 2 روپے کے سکوں میں اپنی بیوی کو 11 ماہ کے لیے کفالت کے واجبات کے طور پر دینے کی اجازت دی، جب اس کے اہل خانہ کی جانب سیشوہر کی گرفتاری کے بعد سات بوریوں میں بھری ہوئی رقم عدالت میں پیش کی گئی۔ وکلاء کے مطابق جوڑے کی طلاق کا کیس فیملی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے شوہر دشرتھ کماوت کو ماہانہ 5000 روپئے کفالت کی رقم دینے کا حکم دیا تھا لیکن وہ گزشتہ 11 ماہ سے ادا نہیں کررہے تھے۔جئے پور کے ہرمادا علاقے کے رہنے والے دشرتھ کو 17 جون کو فیملی کورٹ نمبر 1 نے دیکھ بھال کی عدم ادائیگی پر اس کے خلاف ریکوری وارنٹ جاری کرنے کے بعد گرفتار کیا تھا۔چونکہ شوہر نے رقم دینے سے انکار کر دیا، پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔فیملی کورٹ چھٹیوں کی وجہ سے بند تھی اس لیے اسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج (ADG) نمبر 8 کی لنک کورٹ میں پیش کیا گیاشوہر کے وکیل رمن گپتا نے بتایا کہ، ‘‘عدالت میں، دشرتھ کے اہل خانہ اپنی بیوی کو دینے کے لیے 55000 روپے کے سکے لے کر پہنچے۔’’انہوں نے کہا کہ سکے ایک روپے اور دو روپے کے تھے اور سات بوریوں میں بھرے ہوئے تھے۔بیوی کے وکیل نے اس پر اعتراض کیا لیکن شوہر کی جانب سے دلیل دی گئی کہ یہ سکے قانونی ٹینڈر ہیں اور کوئی بھی ان کو قبول کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔’’عدالت نے اس کے بعد 26 جون کو فیملی کورٹ میں ہونے والی اگلی سماعت پر شوہر کو سکے گننے کے بعد دینے کی اجازت دے دی۔ اس وقت تک سکے عدالت کی تحویل میں رہیں گے۔