چیف منسٹر کا فیصلہ
سینئر قائدین کو مایوسی
پوچارم سرینواس
ریڈی، سکھیندر ریڈی اور سبیتا اندرا ریڈی نے اپنے جانشینوں کیلئے ٹکٹ کی پیروی کی، ملا ریڈی کے داماد کوٹکٹ کی امید
حیدرآباد۔/30اگسٹ، ( سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کیلئے بی آر ایس امیدواروں کی پہلی فہرست کی اجرائی کے ساتھ ہی ایک خاندان میں دو افراد کو ٹکٹ دینے کا معاملہ چیف منسٹر کے سی آر کیلئے الجھن کا باعث بن چکا ہے۔ بی آر ایس کے 6 سے زائد سینئر قائدین نے اپنے سیاسی جانشینوں کو عوام کے درمیان متعارف کرنے کی تیاری کرلی ہے اور چیف منسٹر کے سی آر پر دباؤ بنارہے ہیں کہ ان کے ساتھ فرزند یا دختر کو ٹکٹ دیا جائے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ناراض سرگرمیوں سے نمٹنے میں مصروف کے سی آر نے سیاسی جانشینوں کو متعارف کرنے کی کوششوں پر یہ کہتے ہوئے بریک لگادیا کہ ایک خاندان میں صرف ایک ٹکٹ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی ٹکٹ سے محروم ارکان اسمبلی کو انحراف سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے میں ایک خاندان سے دو افراد کو ٹکٹ کا مطالبہ ناراضگیوں میں مزید اضافہ کا سبب بنے گا۔ چیف منسٹر نے موجودہ رکن اسمبلی ودیا ساگر راؤ کی خرابی صحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے فرزند سنجے کو کورٹلہ سے امیدوار بنایا ہے۔ صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے اپنے فرزند امیت ریڈی کو نلگنڈہ یا منگوڑ اسمبلی حلقہ سے ٹکٹ کی درخواست کی ہے۔ دونوں حلقوں میں پارٹی نے موجودہ ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے۔ امیت ریڈی نے اپنے دادا جی وینکٹ ریڈی میموریل ٹرسٹ کے ذریعہ منگوڑ میں کئی فلاحی کام انجام دیئے۔ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے فرزند کارتک ریڈی کو راجندر نگر اسمبلی حلقہ سے میدان میں اُتارنے کا منصوبہ بنایا ہے تاہم چیف منسٹر نے اس درخواست کو قبول نہیں کیا۔ مقامی رکن اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیتے ہوئے کارتک ریڈی کے امکانات کو ختم کردیا ہے۔ مہیشورم اسمبلی حلقہ سے سبیتا اندرا ریڈی امیدوار ہیں اور وہ اپنے جانشین کو راجندر نگر سے متعارف کرانا چاہتی تھیں۔ کارتک ریڈی کے انتخابی میدان میں اُترنے کے بارے میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ کافی تشہیر کی جاچکی ہے۔ اسپیکر قانون ساز اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی نے اپنی جگہ فرزند بھاسکر ریڈی کو بانسواڑہ سے امیدوار بنانے کی خواہش کی۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بانسواڑہ میں کامیابی کیلئے سرینواس ریڈی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری جنہیں ڈاکٹر راجیا کی جگہ اسٹیشن گھن پور سے امیدوار بنایا گیا وہ اپنی دختر کاویہ کو اس حلقہ سے امیدوار بنانا چاہتے تھے۔ کونسل میں خود موجود رہتے ہوئے دختر کو اسٹیشن گھن پور سے اسمبلی میں داخل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی لیکن چیف منسٹر نے قبول نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی دیگر ارکان اسمبلی نے بھی اپنے بچوں کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ کیا ان میں منچی ریڈی کشن ریڈی کے فرزند پرشانت ریڈی، باجی ریڈی گوردھن کے فرزند جگن کو ٹکٹ کا مطالبہ شامل ہے۔ ایم ہنمنت راؤ نے ملکاجگیری اور میدک دو اسمبلی حلقہ جات پر اپنی دعویداری پیش کی۔ ہنمنت راؤ ملکاجگیری سے دوبارہ امیدوار بنائے گئے جبکہ میدک میں ان کے فرزند روہت کے بجائے پدما دیویندر ریڈی کو ٹکٹ دیا گیا۔ ہنمنت راؤ نے وزیر فینانس ہریش راؤ کے خلاف سنگین الزامات عائد کئے جس کے بعد پارٹی نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی تیاری کرلی ہے۔ وزیر لیبر ملاریڈی نے اپنے داماد ایم راج شیکھر ریڈی کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ کیا جو 2019 میں ملکاجگیری لوک سبھا حلقہ سے مقابلہ کرچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر ایم ہنمنت راؤ کو ملکاجگیری سے ٹکٹ نہیں دیا گیا تو ان کی جگہ ایم راج شیکھر ریڈی بی آر ایس کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔