تہران، 10 اپریل (یو این آئی) ایران امریکہ اور اسرائل کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھل چکی ہے تاہم ایران نے جنگ بندی معاہدے میں ایک دن میں گزرنے والے جہازوں کی حد مقرر کردی ہے ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایک دن میں 15سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ رپورٹ کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع نے کہا کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جس پر اس نے امریکہ کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔ پاکستان کی درخواست پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔ آبنائے ہُرمز دنیا میں توانائی کے شعبے کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے ۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان صرف 34 کلومیٹر (21میل) پانی کی چوڑی پٹی ہے ، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب (بحرِہند) سے ملاتی ہے ۔ امن کے زمانے میں اس بحری راستے سے روزانہ قریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا قریباً 20 فیصد بنتا ہے ۔ اس کے علاوہ خاص طور پر قطر سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اس آبنائے کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیاتھا، جس کے بعد عالمی سطح پر توانائی بحران پیدا ہوا اور خام تیل کی قیمتیں بڑھیں۔i/y
جمعرات کو آبنائے ہرمز سے صرف چھ بحری جہاز گزرے
تہران ۔ 10 اپریل (ایجنسیز) تازہ ترین بحری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں کمی آئی ہے اور جمعرات کے روز صرف چھ جہاز وہاں سے گزرے۔ یہ صورتحال عالمی توانائی کی اہم ترین راہداریوں میں سے ایک میں جاری اضطراب کی عکاسی کر رہی ہے۔کمپنی میرین ٹریفک کی جانب سے جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ان چھ بحری جہازوں میں تیل، کیمیکل یا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے دو ٹینکرز شامل تھے، جبکہ تین مال بردار جہاز اور ایک سپلائی ٹینکر شامل تھا جو جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کیلئے مخصوص ہے۔اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ بدھ کے روز صرف پانچ بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا تھا، جن میں تیل، کیمیکل یا گیس لے جانے والا کوئی ٹینکر شامل نہیں تھا۔اس کے برعکس منگل کے روز، جب جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، نسبتاً زیادہ نقل و حرکت دیکھی گئی اور 11 جہاز وہاں سے گزرے جن میں نو تیل، کیمیکل یا گیس کے ٹینکرز اور دو مال بردار جہاز شامل تھے۔اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری 2025ء سے اب تک کم از کم 212 تیل، کیمیکل یا گیس کے ٹینکرز اس آبنائے سے گزر چکے ہیں، جو اسی مدت کے دوران اس اہم راہداری کو استعمال کرنے والے کل بحری جہازوں کا تقریباً 58 فیصد بنتا ہے۔اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان ٹینکرز میں سے تقریباً 29 فیصد نے جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دو دنوں یعنی 28 فروری اور یکم مارچ 2025ء کے دوران اسے عبور کیا۔ W/H