ایک دہائی بعد امریکی خلاباز خلا میں جانے تیار

   

واشنگٹن ۔27 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام ) امریکی خلائی تحقیقی ادارہ ناسا نجی خلائی تحقیقی ادارے اسپیس ایکس کے تعاون سے تقریباً ایک دہائی بعد 27 اور 28 مئی کی درمیانی شب امریکی سر زمین سے پہلی بار عالمی خلائی اسٹیشن کی جانب 2 خلانوردوں کو روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس سے قبل امریکی سرزمین سے آخری بار 2011 میں خلانوردوں کو عالمی خلائی اسٹیشن بھیجا گیا تھا، جس کے بعد امریکی سر زمین سے یہ سروس بند کرکے روس کے حوالے کی گئی تھی اور خلانوردوں کو قازقستان سے خلائی اسٹیشن بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔لیکن اب ناسا ایک نجی کمپنی اسپیس ایکس کی مدد سے تقریباً ایک دہائی بعد امریکی سر زمین سے خلانوردوں کو خلا میں بھیجنے کے لیے تیار ہے۔امریکی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس 2008 میں امریکی سرزمین سے راکٹ لانچ کرنے والی پہلی نجی کمپنی بنی تھی اور ساتھ ہی ناسا کے ساتھ دو طرح کے کنٹریکٹ حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی، جس میں پہلا کام تو یہ تھا کہ اسپیس ایکس عالمی خلائی اسٹیشن میں موجود خلابازوں کے لیے کھانا اور کچھ ضروری سامان کی ترسیل کا کام سر انجام دیں گے اور کام کو کمرشل ریسپلائی سروسز’ (سی آر ایس) کا نام دیا گیا۔