پرانے رشتہ داروں کو دیکھنے کے بعدیادداشت لوٹ آئی،سارے گاؤں میں حیرت کی لہر
حیدرآباد۔30 اکٹوبر(سیاست نیوز) 50سال قبل جس شخص کو افردا خاندان اور دوست و احباب نے اس کی موت پر تجہیز و تکفین انجام دی تھی وہ شخص 50 سال بعد 80 سال کی عمر میں اس کے اپنے خاندان والوں کو مل گیا ۔ چترانیاکانہ ہلی (چلاکیری) تعلقہ میں سنا ایراننا کی 50 سال قبل 30سال کی عمرمیں موت پر تدفین انجام دی گئی تھی جو کہ ایک مہلک بیماری کا شکار ہوگیا تھا اور اس بیماری کے سبب اس کی یادداشت چلی گئی تھی ۔ ریاست آندھرا پردیش کے موضع سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے زندہ ہونے کی خبر پر پہلے تو گاؤں والوں اور رشتہ داروں نے یقین نہیں کیا لیکن جب اس بات کا یقین ہوگیا کہ 80 سالہ شخص سنا ایرننا ہی ہے توخاندان نے جوش و خروش کے ساتھ مل کر دیوالی منائی ۔ بتایاجاتا ہے کہ آندھرا پردیش کے موضع میں دستیاب ہونے والے اس شخص کو یاپالاپارتھی میں جب اپنے کچھ رشتہ دار نظر آئے تو اس کی یادداشت لوٹ آئی اور وہ انہیں پہچان گیا ‘ سنا ایرننا کا کہناہے کہ جب تک اس کی یادداشت لوٹ نہیں آئی اس کو اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ اس کا تعلق ریاست کرناٹک سے تھا ۔ جب اس بات کی توثیق ہوئی اور یادداشت واپس آئی تو وہ اپنی اہلیہ ایراجی سے ملاقات کے لئے کرناٹک پہنچا جہاں اس کا سب نے خیر مقدم کیا۔ یادداشت آنے سے قبل یہ شخص اپنی دو بیویوں اور کئی پوترے و پوتریوں کے ہمراہ جوگی قبائیل کے ساتھ ان کے ٹانڈہ میں رہا کرتا تھا ۔ جب ایرننا نے اپنی یادداشت واپس آنے کے بعد اپنے خاندان والوں کو چند حقائق سے واقف کروایا تو اس کے اپنے خاندان والوں کو بھی یہ ماننا پڑا کہ کس یہ 50 سال قبل دفن کیا گیا ایراننا ہی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ جس شخص کو ایراننا سمجھ کردفن کیا گیا ممکن ہے وہ کوئی اور تھا ‘ایرننا اپنی بیماری کے سبب ریاست سے کہیں دور نکل گیا تھا ۔