راہول گاندھی کا آئندہ ماہ دورہ ، ریونت ریڈی کی سینئر قائدین سے مشاورت
حیدرآباد۔/8 اگسٹ ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ٹی آر ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حلقہ جات کی ترقی کیلئے استعفی دے کر ضمنی چناؤ کو یقینی بنائیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت میں صرف ضمنی چناؤ کے ذریعہ ہی حلقہ جات کی ترقی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ ایک لاکھ سے زائد دلت اور گریجن طبقات کے ساتھ عادل آباد کے اندراولی میں کل 9 اگسٹ کو جلسہ عام منعقد ہورہا ہے جس میں دلتوں اور گریجنوں کی آواز حکومت تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ ریونت ریڈی نے دلت دنڈورا پروگرام کے انتظامات کے سلسلہ میں اے آئی سی سی پروگرام عمل آوری کمیٹی کے صدرنشین اے مہیشور ریڈی سے ان کی قیامگاہ پر مشاورت کی۔ سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر اس موقع پر موجود تھے۔ ریونت ریڈی نے سابق سی ایل پی لیڈر جانا ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر ان سے ملاقات کی۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کانگریس کارکنوں اور دلت اور گریجن طبقات سے اپیل کی کہ وہ بھاری تعداد میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ 7 برسوں میں دلت ، گریجن اور اقلیتی طبقات کے ساتھ دھوکہ دہی کی ہے۔ ایک بھی انتخابی وعدہ کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ صرف ان حلقہ جات کی ترقی پر توجہ ہے جہاں ضمنی انتخابات ہوتے ہیں۔ حضورآباد میں کامیابی کیلئے دلت بندھو اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست بھر میں ضمنی انتخابات کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہر حلقہ کی عوام کی ترقی ہو۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں پر استعفی کیلئے حکومت کی جانب سے دباؤ پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں اور گریجن طبقات کے حقوق کیلئے 9 اگسٹ تا 17 ستمبر ریاست گیر سطح پر پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔
منڈل، اسمبلی اور ضلع واری سطح پر پروگراموں کی تجویز ہے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سابق صدر راہول گاندھی ستمبر کے پہلے ہفتہ میں تلنگانہ کا دورہ کریں گے اور ان پروگراموں میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 18 اسمبلی حلقہ جات سے عوام اندراولی پروگرام میں شریک ہوں گے۔ مہیشور ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے جلسہ عام کے انعقاد میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور طرح طرح کی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔
