ایک لاکھ روپئے کی امدادی اسکیم کے طریقہ کار پر ریاستی وزراء کی برہمی

   

Ferty9 Clinic

پرانی درخواستوں سے امیدواروں کے انتخاب کی مخالفت، مسلم حلقہ جات میں ناانصافی کا اندیشہ،چیف منسٹر کی شرکت غیر یقینی
حیدرآباد ۔18۔ اگست (سیاست نیوز) ریاستی وزراء نے اقلیتوںکو صد فیصد سبسیڈی کے تحت ایک لاکھ روپئے کی امدادی اسکیم پر عمل آوری کے طریقہ کار پر سخت اعتراض جتایا اور تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن پر برہمی کا اظہار کیا۔ حیدرآباد کے لال بہادر اسٹیڈیم میں 19 اگست کو منتخب امیدواروں میں ایک لاکھ روپئے کے چیکس کی تقسیم عمل میں آئے گی ۔ اس پروگرام کے سلسلہ میں ریاستی وزراء ٹی سرینواس یادو اور محمد محمود علی نے اجلاس طلب کیا تھا جس میں شہر کے ارکان اسمبلی کے وینکٹیش ، ایم گوپال ، ایم گوپی ناتھ ، جعفر حسین معراج ، ممتاز احمد خاں ، کوثر محی الدین ، حکومت کے مشیر اے کے خاں ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کانتی ویسلی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی ۔ وزیر اینمل ہسبنڈری سرینواس یادو نے کارپوریشن کے صدر نشین پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صد فیصد سبسیڈی اسکیم کے لئے علحدہ درخواستیں طلب کیوں نہیں کی گئیں۔ سابق میں 80 فیصد سبسیڈی کیلئے درخواستیں طلب کی گئی تھیں اور چیف منسٹر نے جولائی میں صد فیصد سبسیڈی اسکیم کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب نئی اسکیم کا اعلان ہوچکا ہے تو پھر درخواستیں بھی نئی طلب کی جانی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہاکہ فینانس کارپوریشن کو نیا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے نئی درخواستیں وصول کرنی چاہئے تھی کیونکہ 80 فیصد سبسیڈی کی اسکیم ختم ہوچکی ہے۔ سرینواس یادو نے سابقہ درخواستوں کی بنیاد پر امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار کی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ فینانس کارپوریشن نے من مانی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ریاستی وزراء اور مسلم ارکان اسمبلی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ۔ سرینواس یادو نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ 19 اگست کے پروگرام میں شرکت نہیں کریں گے کیونکہ پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے وہ پارٹی کارکنوں کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتے۔ انہوں نے 19 اگست کے پروگرام کے لئے تیار کردہ دعوت نامہ پر برہمی ظاہر کی جس میں پروٹوکول کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے۔ صدرنشین اقلیتی فینانس کارپوریشن اسحاق امتیاز نے وضاحت کی کوشش کی لیکن سرینواس یادو نے کسی بھی وضاحت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریشن کو حکومت کی مرضی کے مطابق کام کرنا چاہئے۔ لال بہادر اسٹیڈیم میں 3600 منتخب امیدواروں میں ایک لاکھ روپئے کے چیکس تقسیم کئے جائیں گے جبکہ اضلاع میں 6000 چیکس کی تقسیم عمل میں آئے گی ۔ اسمبلی حلقہ جات کیلئے مخصوص کوٹہ الاٹ کرنے کے طریقہ کار پر ناراضگی جتاتے ہوئے سرینواس یادو نے کہا کہ مسلم اکثریتی اسمبلی حلقہ جات کے عوام سے ناانصافی ہوئی ہے۔ اسی دوران چیف منسٹر کے سی آر کی 19 اگست کے پروگرام میں شرکت غیر یقینی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ سے درخواست کی گئی کہ وہ اسٹیل بریج کے افتتاح کے بعد کچھ دیر کیلئے پروگرام میں شرکت کریں۔ اطلاعات کے مطابق کے ٹی آر نے شرکت کی قطعی توثیق نہیں کی ہے۔