ملک کے کسی بھی حصہ میں راشن حاصل کرنے کی سہولت
نئی دہلی ۔3ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت کی جانب سے ’’ایک ملک ایک راشن کارڈ ‘‘کی منفرد اسکیم کا آغاز آئندہ سال یکم جون 2020ء سے ہوجائے گا ۔ جس کے تحت اندرون ملک مہاجرت اختیار کرنے والے افراد کو فائدہ ہوگا ۔ مرکزی وزیر اُمور صارفین رام ولاس پاسوان نے آج یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعہ استفادہ کنندگان نیشنل فوڈ سیکورٹی کے تحت ملک بھر میں کہیں سے بھی اپنا راشن حاصل کرپائیں گے ۔ تاہم اس کیلئے ضروری ہوگا کہ فیر فرائس شاپ پر الکٹرانک پوائنٹ آف سیل لازمی طور پر موجود ہوں۔چونکہ اسی کے ذریعہ بائیومیٹرک یا آدھار کی شناخت کی جاسکے گی ۔ انہوں نے خصوصی طور پر کہا کہ بین ریاستی استفادہ کنندگان کو فائدہ پہنچانے کیلئے فیر فرائس شاپس ای پی ایس سے مربوط ہوں اور اس کیلئے ضروری اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک ملک اور ایک راشن کارڈ ‘ کو آنے والے جون سے پورے ملک میں نافذ کردیا جائے گا ۔ اس نظام کے ذریعہ خصوصی طور پر اُن افراد کو فائدہ ہوگا جن کا تعلق لیبر طبقہ اور یومیہ مزدوری کرنے والے اور ایسے نوجوان جو اپنی ملازمت کے معاملہ میں ایک ریاست سے دوسری ریاست نقل مقام کرتے رہتے ہیں ۔ رام ولاس پاسوان نے مزید کہاکہ راشن کارڈ کے علاوہ ایک اور کارڈ ’’ایک ملک ایک کارڈ ‘‘ کا بھی بہت جلد آغاز کیا جائے گا ، جس سے ملک بھر میں یکجہتی کے معیار کو بڑھانے میں مدد ملے گی ۔ وزارت اُمور صارفین نے اس بارے میں بیورو آف انڈین اسٹانڈرس( بی آئی ایس ) کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس کارڈ کیلئے مطلوبہ نقش راں تیار کریں۔