ایک وقت پر کرکٹ کی امید چھوڑدی تھی :محسن خان

   

لکھنؤ۔ ممبئی انڈینزکے خلاف آخری اوور میں11 رنزکا کامیابی سے دفاع کرنے کے بعد آئی پی ایل 2023 میں لکھنؤ سوپر جائنٹس کو پانچ رنز سے قریبی اور اہم فتح دلانے کے بعد، بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محسن خان نے اپنے کیریئر کے پچھلے 12 مہینوں میں مشکل دورکو یادکیا۔ یہ انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کرکٹ کھیلنے کی امید بھی چھوڑ دی تھی۔ محسن نے گزشتہ سال اپنے پہلے آئی پی ایل سیزن میں نو میچوں میں 5.97 کی اکانومی ریٹ سے 14 وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن اس کے بعد وہ کندھے کی شدید زخم کا شکار ہوگئے اور 12 ماہ تک کوئی مسابقتی کرکٹ نہیں کھیلے، پورے ڈومیسٹک سیزن اور آئی پی ایل 2023 کے پہلے ہاف سے محروم رہے۔ اس پر محسن خان نے کہاکہ یہ ایک بہت مشکل وقت تھا اور میں نے ایک موقع پرکرکٹ کھیلنے کی امید چھوڑ دی تھی کیونکہ میں اپنا ہاتھ اٹھانے کے قابل بھی نہیں تھا، بولنگ کو بھول گیا تھا۔ میں (اپنا ہاتھ) سیدھا نہیں کر پا رہا تھا، میرے فزیو نے میرے ساتھ کام کیا۔ یہ طبی معاملات سے متعلق تھا، یہ کافی خوفناک تھا، جیسا کہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اگر میں مزید ایک ماہ دیرکر دیتا تو انہیں میرا ہاتھ کاٹنا پڑتا۔ میرے زخم کے بارے میں، میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہوں گا کہ کسی بھی کرکٹر کو اس قسم کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ یہ کافی عجیب تھا، میری شریان بلاک ہوگئی تھی،۔