ایک ووٹ کی قیمت 6 ہزار روپئے

   

ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی حکومتوں میں کرپشن اور دولت کی طاقت کا استعمال کئے جانے کے الزامات عام ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی بی جے پی حکومت پر بھی دولت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کو خریدنے کے الزامات بھی عائد ہو رہے ہیں۔ کئی گوشوں کی جانب سے کروڑہا روپئے خرچ کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کو خریدنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ چاہے تلنگانہ ہو یا پھر دہلی ہو ‘ چاہے مہاراشٹرا ہو یا پھر مدھیہ پردیش ہو۔ کرناٹک اس معاملے میں خاص طور پر سرخیوں میں ہے ۔ کرناٹک ہی وہ پہلی ریاست رہی جہاں کانگریس اور جے ڈی ایس کے ارکان اسمبلی کو خرید کر بی جے پی نے انحراف پر اکسایا اور پھر ریاست میں اپنی حکومت تسلیم کرلی ۔ ریاست میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد سے وزراء کے خلاف بھی کرپشن کے الزامات عائد ہونے لگے ہیں۔ کرناٹک کے ایک وزیر پر ایک کنٹراکٹر نے رشوت کا الزام عائد کرتے ہوئے خود کشی کرلی تھی ۔ حالانکہ بعد میں وزیر کو کلین چٹ بھی دیدی گئی لیکن یہ معاملہ بہت زیادہ موضوع بحث رہا تھا ۔ اسی طرح کرناٹک کے ایک اور سابق وزیر رمیش جرکی ہولی پر جنسی اسکینڈل میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ کرناٹک حکومت میں کرپشن عام ہونے کے کئی الزامات اور واقعات منظر عام پر آئے ہیں لیکن سبھی کو دبادیا گیا ۔ اب رمیش جرکی ہولی نے ہی یہ اعلان کردیا کہ ان کی پارٹی ریاست کے اسمبلی انتخابات میں ایک ووٹ کیلئے چھ ہزار روپئے قیمت ادا کرے گی ۔ یہ در اصل ملک کی جمہوریت پر داغ ہے ۔ جمہوری عمل کو داغدار اور کھوکھلا کرنے کی کوشش ہے ۔ دولت کی طاقت استعمال کرتے ہوئے کامیابی حاصل کرنا در اصل عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے ۔ ایک ذمہ دار سابق وزیر کی جانب سے اس طرح کا بیان دیا جانا در اصل بی جے پی کی سوچ اور اس کی روش کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ الزامات تقویت پاتے ہیں کہ بی جے پی دولت کے بل پر اقتدار حاصل کرنے میں مہارت رکھتی ہے ۔ رمیش جرکی ہولی کے اس تبصرہ پر ایک بڑا تنازعہ بھی پیدا ہوگیا ہے ۔
حالانکہ بی جے پی نے خود کو پارٹی لیڈر کے اس بیان سے دور کرلیا ہے تاہم یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی میں ایسے بے شمار قائدین ہیں جو دولت اور طاقت کے بل پر کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ خود پارٹی اگر عوام کے ووٹ خریدنے میں کامیاب نہیں پاتی ہے تو عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندوں کو خریدنے سے گریز نہیں کرتی ۔ اس کیلئے بے شمار دولت کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر برسر اقتدار جماعتوں کے ذمہ دار قائدین ہی اس طرح کی بیان بازیاں کرتے رہیں اور ووٹ خریدنے کی بات کرنے لگیں تو جمہوریت کا مستقبل کیا ہوگا ؟ ۔ جمہوریت میں عوام کا یقین متزلزل ہو کر رہ جائیگا ۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی پیدا ہونے لگتا ہے کہ آخر بی جے پی اور اس کے قائدین کے پاس اتنی دولت کہاں سے آنے لگی ہے کہ وہ ایک ووٹ کیلئے ہزاروں روپئے قیمت ادا کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہزاروں روپئے میں ایک ووٹ خریدا جائے تو پھر انتخابی قوانین کا کیا وجود رہ جائیگا ؟ ۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی اخراجات کی جو حد مقرر کی جاتی ہے وہ محض ضابطہ کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے کیونکہ آج کے دور میںانتخابات صرف طاقت اور پیسے کے بل پر لڑے جانے لگے ہیں۔ عوام کی حقیقی تائید حاصل کرتے ہوئے شائد ہی کوئی امیدوار کامیاب ہوپائے ۔ جس طرح سے دولت کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے اور انتخابی قوانین کی دھجیاںاڑائی جا رہی ہیںاس سے جمہوریت کے مستقبل پر سوال پیدا ہونے لگا ہے ۔
ایک ذمہ دار سابق وزیر کی جانب سے اس طرح کے بیان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کیلئے پوچھ تاچھ ہونی چاہئے ۔ ان سے جواب طلب کیا جانا چاہئے کہ کس بناء پر انہوں نے یہ بیان دیا ہے ۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے اگر خود کو بے تعلق کرلیا ہے تو وہ بری الذمہ نہیں ہوسکتی ۔ بی جے پی کوا س طرح کے قائدین کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے اور سب سے بہترین کارروائی یہی ہوسکتی ہے کہ طاقت اور پیسے کا استعمال کرنے والے قائدین کو ٹکٹ سے محروم کردیا جائے ۔ تمام جماعتوںاور کرناٹک کے عوام کو پیسے کے بل پر کامیابی کا دعوی کرنے والے قائدین سے چوکنا رہنے اور جمہوریت کو بچانے کی ضرورت ہے ۔