واشنگٹن: بچوں کیلئے سرگرم امدادی ادارے ’سیو دا چلڈرن‘ نے خبردار کیا ہیکہ کورونا کی وبا کے باعث اسکول جانے سے محروم تقریباً ایک کروڑ بچے شاید کبھی واپس اسکول نہ جا پائیں۔ پیر کو جاری کردہ اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں ادارہ نے مطلع کیا ہیکہ عالمی وبا کے اقتصادی نقصانات کی وجہ سے 90 تا 117 ملین بچے غربت کی طرف دھکیلے جاسکتے ہیں۔ یونیسکو کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ’سیو دا چلڈرن‘ نے لکھا ہیکہ رواں سال اپریل میں دنیا بھر میں 1.6 بلین بچے اسکول نہیں جا پا رہے تھے، جو دنیا بھر میں طلبا کی 90فیصد تعداد ہے۔ انسانی تاریخ میں اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا۔ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ’سیو دا چلڈرن‘ نے کہا ہیکہ عالمی وبا نے دنیا میں ’غیر معمولی تعلیمی ایمرجنسی‘ کی صورتحال پیدا کی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تنظیم کو خدشہ ہیکہ کورونا کی وجہ سے بند ہونے والے اسکولوں کے مثاثرہ بچوں میں سے تقریباً ایک کروڑ کی تعلیم ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیگی۔ ’سیو دا چلڈرن‘ نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسکو کے جاری کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہیکہ رواں سال اپریل میں کورونا کی وجہ سے دنیا بھر کے ایک ارب 60 کروڑ بچے اور نوجوان اسکول اور یونیورسٹیاں بند ہونے سے متاثر ہوئے جو طلبہ کی عالمی تعداد کا 90فیصد ہیں۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’سیو دا چلڈرن‘ میں کہا گیا ہیکہ انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ دنیا بھر میں ایک پوری نسل کی تعلیم متاثر ہوئی۔رپورٹ کے مطابق وبا کی وجہ سے خراب ہوتی معاشی صورتحال میں مزید ایک کروڑ 17 لاکھ بچے غربت کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے اسکول میں داخلے متاثر ہو سکتے ہیں۔
