ایک گاؤں کی آبادی 1400 جس میں 600 کورونا سے متاثر

   

لوگ گھروں کو چھوڑ کر کھیتوں میں رہ رہے ہیں ، جب کہ جعفر آخری رسومات انجام دینے میں مصروف
حیدرآباد :۔ تلنگانہ کا ایک گاؤں پوری طرح کورونا کی لپیٹ میں ہے ۔ 1400 کے منجملہ گاؤں کے 600 افراد کورونا سے جس سے گاؤں والے اپنے اپنے گھروں بڑے بڑے بنگلے خالی کر کے گاؤں کے باہر کھیتوں میں عارضی ٹینٹ اور جھونپڑیاں ڈال کر قیام کیے ہوئے ہیں ۔ وقار آباد منڈل ایراولی میں ایسی صورتحال پیدا ہوگئی گاؤں میں کورونا داخل ہوگیا اور گاؤں والے گاؤں سے باہر ہوگئے ۔ سارا گاؤں خالی ہوگیا ۔ گاوں کی گلیاں سنسان ہوگئی ہر طرف سے صرف کتے نظر آرہے ہیں ۔ گاؤں کے اندر داخل ہونے پر گھروں کے سامنے صرف ضعیف افراد نظر آرہے ہیں ۔ ان کے چہروں پر بھی اداسی نظر آرہی ہے ۔ جب ان سے گاؤں کے لوگوں اور بچوں کے بارے میں سوال کیا جارہا ہے ان کی نظریں کھیتوں کی طرف اُٹھ رہی ہیں کورونا وائرس پھیلنے اور گاؤں کے دو لوگ سانس کی تکلیف کے بعد دم توڑنے کے بعد گاؤں والے گاؤں چھوڑ کر کھیتوں میں پناہ لے رہے ہیں ۔ گاوں والوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کلکٹر نے گاوں کا دورہ کیا تھا ۔ گاوں والوں نے ہیلت کیمپ کا انعقاد کرتے ہوئے تمام لوگوں کا کورونا ٹسٹ کرانے کی اپیل کی تھی ۔ لیکن اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہر روز ایک اے این ایم گاوں کا دورہ کر کے واپس جاتی ہے ۔ کورونا سے فوت ہونے والوں کی آخری رسومات کے لیے کوئی آگے نہیں آرہے ہیں ۔ معاون رکن جعفر جے سی بی کی مدد سے گڑھے کھودیتے ہوئے آخری رسومات انجام دینے میں تعاون کررہے ہیں ۔ ایرا ولی کے کوآپشن ممبر جعفر نے کہا کہ گاوں میں ہیلت کیمپ کا اہتمام کرتے ہوئے تمام لوگوں کا ٹسٹ کرنے کی 10 دن قبل کلکٹر سے اپیل کی گئی تھی رکن اسمبلی آنند کو بھی اطلاع دی گئی ۔ عوام اپنی جان ہتھیلی میں رکھ کر جی رہے ہیں ۔ انہوں نے اعلیٰ عہدیداروں کو اس گاؤں پر توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔ ہرش وردھن ریڈی نے بتایا کہ ان کی نظروں کے سامنے کورونا سے متاثر ہو کر ان کے والد نے دم توڑ دیا ۔ سری سلم مدیراج نے بتایا کہ گاوں کی نصف آبادی کورونا سے متاثر ہے لوگ گھروں کے بجائے کھیتوں میں رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ گاوں میں کون کب فوت ہوگا یہ سونچ کر ہی گھبراہٹ ہورہی ہے ۔۔