حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : انسان اگر ہمت اور جذبے کے ساتھ محنت توڑ کوشش کرتا ہے تو وہ زندگی کے ہر امتحان میں کامیاب ہوسکتا ہے ۔ ایسی ایک مثال رمیش نامی شخص نے قائم کی ۔ رمیش پداپلی ضلع کے سلطان آباد کا ساکن ہے اسے ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی ہے ۔ اس کی بیوی اسے بیٹی پیدا ہونے کے بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی ۔ رمیش کا دایاں ہاتھ پیدائش سے ہی کہنی تک نہیں تھا ۔ رمیش نے کریم نگر میں کام تلاش کرنا شروع کیا تو سبھی نے اسے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ تم کیا کرسکتے ہو ۔ جس کے کچھ دنوں بعد وہ حیدرآباد منتقل ہوگیا اور حیدرآباد میں ہوٹلوں میں کام کرنے لگا جس کے بعد وہ سکندرآباد کے علاقہ بوئن پلی میں ایک ہاتھ سے ہی گنے کی گاڑی چلا رہا ہے ۔ ناگراجو نے اسے ملازمت پر رکھ لیا ہے ۔ لیکن اب وہ اپنا ذاتی کاروبار کرنے کے لیے پوری تیاری کررہا ہے ۔ رمیش نے حکومت سے اپیل کی کہ اسے معذور پنشن جاری کریں اور اس نے عطیہ دہندگان سے درخواست کی کہ اسے گنے کی گاڑی بنانے میں مدد کریں ۔۔ ش