ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی کے مریضوں پر معائنوں کیلئے 50 ہزار کا بوجھ

   

ہاسپٹل میں سہولتوں کا فقدان، کانگریس قائد فیروز خاں کی مریضوں اور سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات
حیدرآباد۔ گورنمنٹ ای این ٹی ہاسپٹل کوٹھی میں علاج میں لاپرواہی اور ادویات کی قلت سے متعلق اطلاعات پر کانگریس کے سینئر لیڈر محمد فیروز خاں نے نائب صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی راشد خاں کے ہمراہ ہاسپٹل کا دورہ کیا اور مریضوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل سے ملاقات کرتے ہوئے مریضوں کی حالت اور علاج کی سہولتوں کے بارے میں دریافت کیا۔ فیروز خاں نے ہاسپٹل کے مریضوں اور ان کے تیمار داروں میں فوڈ پیاکٹس تقسیم کئے۔ انہوں نے وارڈز کا معائنہ کرتے ہوئے مریضوں سے فرداً فرداً ملاقات کی اور علاج کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کا تیقن دیا۔ مریضوں نے بتایا کہ بلیک فنگس کے علاج کیلئے درکار انجکشن اور ادویات کی قلت ہے۔ ڈاکٹرس انہیں باہر سے حاصل کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مریضوں نے بتایا کہ ایم آر آئی، آر ٹی پی سی آر، ایکسرے اور دیگر ٹسٹ کیلئے باہر رجوع ہونے کی ہدایت دی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ہر مریض کو ٹسٹوں پر 20 تا 50ہزار کا خرچ ہورہا ہے۔ انہوں نے سپرنٹنڈنٹ ہاسپٹل کو مشورہ دیا کہ وہ ہاسپٹل میں معائنوں کی سہولت کیلئے حکومت سے نمائندگی کریں اور ضروری مشنری حاصل کی جائے۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خاں نے کہا کہ ای این ٹی ہاسپٹل میں موجود تمام بستر مکمل ہوچکے ہیں اور کئی مریض شریک ہونے کیلئے گذشتہ دس دنوں سے انتظار کررہے ہیں۔ ڈاکٹرس کی موجودگی کے باوجود ادویات اور انفرااسٹرکچر کی کمی کے نتیجہ میں مریضوں کا علاج نہیں ہوپارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ای این ٹی ہاسپٹل کو بلیک فنگس کے نوڈل ہاسپٹل میں تبدیل کردیا لیکن وہاں انفرااسٹرکچر اور ادویات فراہم نہیں کئے گئے۔ ہاسپٹل میں سرجیکل بیڈس کی تعداد محض 4 ہے جبکہ ریاست کے مختلف اضلاع سے مریض روزانہ رجوع کئے جارہے ہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ حکومت کی سطح پر لاپرواہی کا رویہ ہے لیکن وہ ڈاکٹرس، نرسیس، پولیس اور این جی اوز کے رول کی ستائش کرتے ہیں جو دن رات عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ فیروز خاں نے مرکز اور ریاستی حکومتوں پر عوام کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کا الزام عائد کیا۔