ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ کا دعوی کرنے والے شخص کے خلاف مقدمہ

   

مہاراشٹرا چیف الیکٹورل آفیسر کی کارروائی ۔ ووٹنگ مشین محفوظ رہنے کا ادعا

نئی دہلی: ممبئی پولیس کی سائبر برانچ نے ایک ایسے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے جس نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ‘فریکوئنسی’ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے ان مشینوں کو ہیک کر سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے یہ اطلاع دی۔انہوں نے کہا کہ مہاراشٹرا کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) نے اس معاملے میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم سید شجاع کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔اہلکار نے بتایا کہ 30 نومبر کو، جنوبی ممبئی کے سائبر پولیس اسٹیشن میں انڈین کوڈ آف جسٹس (BNS) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (IT) ایکٹ کے تحت اس ویڈیو میں نظر آنے والے شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی گئی۔کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی، جس میں ایک شخص کو یہ دعویٰ کرتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ ای وی ایم کے ‘فریکوئنسی’ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے اور مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں اسے ہیک کر سکتا ہے جس کے بعد الیکشن کمیشن نے یہ کارروائی کی۔الیکشن کمیشن نے 2019 میں بھی شجاع کے خلاف ایسا ہی دعویٰ کرنے پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔مہاراشٹرا کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے ایک پوسٹ میں کہا کہ اسی طرح کے واقعہ میں جس میں جھوٹے دعوے شامل تھے، 2019 میں دہلی میں اسی شخص (شجاع )کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی جو دوسرے ملک میں چھپا ہوا ہے۔ سوشیل میڈیا پرکمیشن کے ایک اہلکار نے کہا کہ دہلی اور ممبئی پولیس اس کیس کی سرگرمی سے تحقیقات کر رہی ہے اور اس شخص کی شناخت اور گرفتاری کیلئے ضروری اقدامات کر رہی ہے جو اس طرح کی بد نیتی پر مبنی سرگرمیوں میں ملوث افراد سے رابطے میں ہے۔افسر نے کہا کہ ایسی کارروائیاں سنگین جرم ہیں اور اس میں ملوث کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔کمیشن نے کہا کہ ای وی ایم کو وائی فائی یا بلیوٹوتھ سمیت کسی بھی نیٹ ورک سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے کہا کہ ای وی ایم کے ساتھ کسی بھی طرح سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے بھی ای وی ایم پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔