ای وی ایم مشینوں کے خلاف 29 جنوری کو بھارت بند

   

راجناتھ سنگھ کے قول و فعل میں تضاد، بہوجن کرانتی مورچہ کے قائدین کا بیان

حیدرآباد ۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) شہریت ترمیمی قانون( سی اے اے )‘ این آرسی اور این پی آر کے علاوہ ای وی ایم مشینوں کے خلاف بی اے ایم سی ای ایف کی ذیلی تنظیم بہوجن کرانتی مورچہ کی جانب سے 29جنوری کے معلنہ بھارت بند کو کامیاب بنانے کی ایس سی‘ ایس ٹی ‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ کے ذمہ داران نے تلنگانہ کے عوام سے اپیل کی ہے۔چیر من فرنٹ ثناء اللہ خان کے علاوہ کنونیرز منیر الدین مجاہدصدر خیر امت‘دلت لیڈر پریم کمار‘ حیات حسین حبیب‘ اسٹیٹ کنونیر بہوجن کرانتی مورچہ اے لکشمن کے علاوہ پروفیسر انورخان نے تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بہوجن مکتی مورچہ کے مجوزہ بھارت بند میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ‘ اپنے کاروباری مرکز ‘ تعلیمی اداروں کوبند رکھیں او ربہوجن مکتی مورچہ کے بھارت بندکو کامیاب بنائیں۔ثناء اللہ خان نے شہر کے تمام چھوٹے بڑے تعلیمی اداروں کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ وہ سی اے اے ‘ این آرسی او راین پی آر کے خلاف مجوزہ بھارت بند کی تائید وحمایت میں وہ اپنے اداروں کو بند رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ دلت طبقات سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کی فلاح وبہبود کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیم بی اے ایم سی ای ایف کی ذیلی تنظیم بہوجن کرانتی مورچہ نے سی اے اے ‘ این آرسی او راین پی آر کے خلاف کھل کر میدان میںاترنے کاکام کیاہے ۔جناب منیر الدین مجاہد نے مرکزی وزیرراج ناتھ سنگھ کے اس بیان کو مـضحکہ خیز قراردیا جس میںانہوں نے کہاتھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کوئی ہاتھ بھی نہیںلگاسکتا ہے ۔ جناب منیر الدین مجاہد نے کہاکہ اگر حقیقت میں راج ناتھ سنگھ کے قول اور فعل میںتضاد نہیںہے تو وہ سب سے پہلے اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کو ہٹائیںجہاں پر سی اے اے ‘ این آرسی او راین پی آر کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کی بربریت کا شکار ہونے والے سب سے زیادہ 23لوگ فوت ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر راجناتھ سنگھ کو ہندوستان کے مسلمانوں سے حقیقی ہمدردی ہے تو ان تمام بے قصور مسلمانوں کو رہا کرائیں گے جو یوپی کی جیلوں میں بند ہیں۔ پروفیسر انور خان نے نئے شہریت قانون‘ این آرسی او راین پی آر پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے آسام میںاین آرسی کے دوران پیش آئے واقعات پیش کئے۔انہوں نے کہاکہ تمام کو مل کر سی اے اے ‘ این آرسی اور این پی آر جیسے قوانین کی مخالفت میںسڑکوں پر اترنے کی ضرورت ہے۔