ای وی ایم مشینیں برقرار،بیالٹ پیپر سے الیکشن کی درخواست سپریم کورٹ میں مسترد

,

   

مشینوں میں اُلٹ پھیر کی گنجائش نہیں، جسٹس وکرم ناتھ اورجسٹس پی بی ورالے کا کے اے پال کی مفاد عامہ کی عرضی پرفیصلہ

حیدرآباد۔/26نومبر، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بجائے بیالٹ پیپر کے ذریعہ رائے دہی کی اپیل کرتے ہوئے دائر کی گئی مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کردیا۔ ڈاکٹر کے اے پال نے مفاد عامہ کی درخواست میں الیکشن کمیشن کو ہدایت دینے کی اپیل کی کہ ایسے امیدواروں کو پانچ سال تک مقابلہ سے نااہل قراردیا جائے جنہوں نے انتخابی مہم کے دوران شراب، دولت اور دیگر اشیاء تقسیم کی ہوں۔ ڈاکٹر کے اے پال نے شخصی طور پر پیروی کرتے ہوئے جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس پی بی ورالے کی بنچ پر دلائل پیش کئے۔ جسٹس وکرم ناتھ نے ریمارک کیا کہ آپ نے سابق میں بھی کئی مفاد عامہ کی درخواستیں دائر کی ہیں، آپ کو یہ ذہین آئیڈیاز کہاں سے ملتے ہیں۔ درخواست گذار نے بتایا کہ وہ لاس اینجلس میں گلوبل پیس سمٹ میں شرکت کے بعد واپس ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے تقریباً 180 ریٹائرڈ آئی اے ایس، آئی پی ایس عہدیدار اور ریٹائرڈ ججس ان کی تائید میں ہیں، میں گلوبل پیس نامی تنظیم کا صدر ہوں جس کے ذریعہ 3 لاکھ 10 ہزار یتیم بچوں اور 40 لاکھ بیواؤں کو بچایا گیا۔ جسٹس وکرم ناتھ نے سوال کیا کہ وہ کیوں سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں ، جس پر کے اے پال نے کہا کہ انہیں 150 ممالک کے دورے کا موقع ملا ہے اور ان تمام ممالک میں بیالٹ پیپر کے ذریعہ رائے دہی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 180 ممالک میں سوائے ڈکٹیٹرس کی حکمرانی والے ممالک ہر جگہ بیالٹ پیپر کا استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے روس، شام اور لائیبریا کی مثال دی جہاں ان کے بقول ڈکٹیٹر شپ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیالٹ پیپر سے انحراف دراصل دستور کی دفعات14 ، 19 اور 21 کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بنچ کو یاد دلایا کہ آج قومی یوم دستور منایا جارہا ہے، جس پر جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ ایک اہم دن ہم اس معاملہ کی سماعت کررہے ہیں۔ ڈاکٹر پال نے کہا کہ دفعہ 32 کے تحت وہ عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ نے ریمارک کیا کہ کیا وہ ہندوستان کو دنیا کے دیگر ممالک میں انفرادی موقف میں دیکھنا نہیں چاہتے جس پر کے اے پال نے کہا کہ وہ اس لئے کہ یہاں انتخابی عمل میں کرپشن ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ نے اس دلیل کو نامنظور کردیا اور کہا کہ کوئی کرپشن نہیں اور کون کہتا ہے کہ کرپشن ہے۔ درخواست گذار نے کہا کہ کرپشن کے ان کے پاس ثبوت موجود ہیں۔ الیکشن کمیشن نے جاریہ سال جون میں اعلان کیا تھا کہ اُس نے ملک میں انتخابات کے دوران 9 ہزار کروڑ روپئے ضبط کئے ہیں۔ کے اے پال نے کہا کہ انہوں نے تین الیکشن کمشنرس سے ملاقات کرتے ہوئے کرپشن کا ثبوت پیش کیا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ اس مقدمہ میں تمام سیاسی پارٹیوں سے حلفنامہ حاصل کیا جائے جس پر جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ موجودہ سسٹم سے سیاسی پارٹیوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہے اور صرف آپ کو اعتراض ہے۔ ڈاکٹر کے اے پال نے دعویٰ کیا کہ الیکشن میں بڑے پیمانے پر رقومات تقسیم کی جاتی ہیں اور ایک بزنس مین نے کانگریس اور بی جے پی کے بشمول 6 بڑی پارٹیوں کو 12 ہزار کروڑ ڈونیشن دیا ہے۔ جس پر جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ الیکشن میں ہمیں کبھی بھی رقم نہیں ملی ہے اور نہ ہی کوئی اور چیز حاصل ہوئی۔ درخواست گذار نے حالیہ الیکشن کا حوالہ دیا اور کہا کہ بعض معاملات میں ارکان اسمبلی کی جانب سے ای وی ایم مشینوں کو نقصان پہنچانے کے معاملات منظر عام پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں میں اُلٹ پھیر کی جاسکتی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے 2018 میں ٹوئیٹ کیا تھا کہ ای وی ایم مشینوں میں اُلٹ پھیر ممکن ہے اور اب جگن موہن ریڈی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ نے یہ کہتے ہوئے مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کردیا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ آپ اگر الیکشن میں کامیاب ہوں تو ای وی ایم میں اُلٹ پھیر نہیں کی گئی اور جب ناکام ہوتے ہیں تو ای وی ایم میں اُلٹ پھیر کی شکایت کی جاتی ہے۔1