کامیابی پر خاموشی اور شکست پر سوال اٹھانا درست نہیں۔ مرکزی حکومت کے سنٹرل وسٹا پراجیکٹ کی ستائش ۔ چیف منسٹر جموںو کشمیر کا انٹرویو
نئی دہلی: ایک ایسے وقت جبکہ کانگریس اور اس کی حلیف جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر سوال کھڑا کر رہی ہیں اور بیالٹ پیپر پر رائے دہی کا مطالبہ کر رہی ہیں انڈیا اتحاد کی رکن جماعت نیشنل کانفرنس نے کہا کہ ووٹنگ کے طریقہ کار پر سوال کرنے والوں کو مستقل مزاج ہونا چاہئے ۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جو کانگریس کی حلیف نیشنل کانفرنس کے نائب صدر بھی ہیں ‘ کہا کہ جب نتائج اپنی توقع کے مطابق نہ آئیں صرف اسی وقت ای وی ایم پر سوال کرنا درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ ان ہی ای وی ایم کے ذریعہ لوک سبھا انتخابات میں 100 نشستیں جیت جاتے ہیں اور اسے اپنی پارٹی کی جیت سمجھ کر جشن مناتے ہیں اور چند ہی مہینوں پر صورتحال بدل جاتی ہے تو آپ ای وی ایم کو پسند نہیں کرتے کیونکہ نتائج آپ کی توقع کے مطابق نہیں رہے ۔ جب ان سے کہا گیا کہ وہ بی جے پی کے خیالات ہی بیان کر رہے ہیں عمر عبداللہ نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ۔ جو صحیح ہے وہ صحیح ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے مسئلہ ہے تو آپ کو مستقل مزاج رہنا ہوگا ۔ جن جماعتوں کو ای وی ایم پر بھروسہ نہیں ہے انہیں انتخابات میں مقابلہ نہیں کرنا چاہئے ۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست اور پھر اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کی اپنی مثال پیش کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ رائے دہندے کسی دن آپ کو منتخب کرتے ہیں اور کسی دن پسند نہیں کرتے ۔ میں نے کبھی مشینوں کو ذمہ دار قرار نہیں دیا ۔ جاریہ سال جموں و کشمیر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں عمر عبداللہ کی قیادت والی نیشنل کانفرنس نے شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے 95رکنی اسمبلی میں 48 حلقوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ کانگریس نے یہاں چھ نشستوں پر جیت درج کی ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وہ جانبداری کی بجائے اصولوں کی بنیاد پر بات کرتے ہیں۔ کانگریس کی سوچ سے اختلاف کرتے ہوئے چیف منسٹر جموں و کشمیر نے نریندر مودی حکومت کی سنٹرل وسٹا جیسے پراجیکٹس کیلئے ستائش بھی کی ۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی سوچ سے قطع نظر دہلی میں سنٹرل وسٹا پراجیکٹ پر جو کچھ ہو رہا ہے بہترین ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایک نئی پارلیمنٹ عمارت کی تعمیر ایک بہترین خیال تھا ۔ ہمیں ایک نئی پارلیمنٹ عمارت کی ضرورت ہے ۔ قدیم عمارت اب اہمیت سے محروم ہوگئی تھی ۔ عمر عبداللہ نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ کانگریس اور اس کی کچھ حلیف جماعتیں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے خلاف مہم چلا رہی ہیں ۔ مہاراشٹرا اور ہریانہ میں کانگریس کی شکست کے بعد یہ مہم تیز ہوئی ہے ۔ بی جے پی نے اس طرح کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جھارکھنڈ میں اپوزیشن کی جیت کی مثال پیش کی ہے جہاں مہاراشٹرا کے ساتھ ہی رائے دہی ہوئی تھی ۔ کہا جا رہا ہے کہ عمر عبداللہ کے یہ ریمارکس اس لئے بھی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ انڈیا اتحاد میں مہاراشٹرا کی شکست کے بعد سے اختلافات دکھائی دینے لگے ہیں ۔
سیاسی خاندان سے وابستگی زندگی بھر کامیا بیکی کلید نہیں: عمر عبداللہ
مجھے کسی اور کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں، میں سال کے شروعات میں الیکشن ہار گیا تھا، میڈیا کے ساتھ خصوصی انٹرویو
نئی دہلی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اقربا پروری کی سیاست پر بی جے پی کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی خاندان سے تعلق زندگی بھر کی کامیابی کی کلید نہیں ہے۔عمر عبداللہ نے یہ بھی سوال کیا کہ حکمران جماعت اپنے اتحادیوں کے ساتھ یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھاتی جن پر اقربا پروری کو برقرار رکھنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے۔عبداللہ نے جمعہ کو میڈیاکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران یہ بات کہی۔درحقیقت ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خاندان کی چوتھی نسل سیاست میں آئے گی اور کیا اس کی وجہ سے انہیں کانگریس پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرح خاندانی سیاست جاری رکھنے پر تازہ تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔عبداللہکے دونوں بیٹے ضمیر اور ظہیر وکیل ہیں اور انہوں نے حال ہی میں سخت سیاسی تبصرے کیے ہیں، خاص طور پر آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے معاملے پر۔. عبداللہ کے بیٹوں نے بھی ستمبر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے دوران اپنے والد کے ساتھ بھرپور مہم چلائی۔عبداللہ نے کہاکہ انہیں اپنی محنت سے ہی سب کچھ حاصل کرنا ہوگا کوئی بھی انہیں طشتری میں ڈال کر کچھ نہیں دے گا۔عمر عبداللہ کے دادا شیخ عبداللہ کو آزادی کے بعد ریاست جموں و کشمیر کا بانی سمجھا جاتا ہے۔. ان کے والد فاروق عبداللہ کئی دہائیوں تک وزیر اعلیٰ رہے اور عمر عبداللہ اکتوبر میں دوسری بار وزیر اعلیٰ بنے۔عمر عبداللہ کو اس سال کے شروع میں ہونے والے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔. اپنی ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہاکہ کا سیاسی خاندان سے وابستہ ہونا زندگی بھر کامیابی کا باعث نہیں بنتا اور مجھے کسی اور کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔. میں صرف اپنے بارے میں بات کروں گا. میں اس سال الیکشن ہار گیا تھا۔تاہم، انہوں نے ستمبر میں اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔. عبداللہ نے کہاکہ میں ایک ہی شخص ہوں، ایک ہی خاندان سے، ایک ہی سیاسی جماعت سے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی خاندانی سیاست پر تنقید محض سیاسی منافقت ہے۔جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بی جے پی صرف اپنی سہولت کے مطابق اقربا پروری کی سیاست کی مخالفت کرتی ہے۔. اسے اپنے ساتھیوں کی اقربا پروری کی سیاست سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بی جے پی کے پاس ماضی میں کتنے خاندانی اتحادی ہیں یا مستقبل میں ہوں گے۔. اسی لیے میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ بی جے پی کو سیاسی خاندانوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔. انہیں سیاسی خاندانوں کے ساتھ مسائل ہیں جو بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ اب بھی اپنے بیٹوں ضمیر اور ظہیر کو رہنمائی یا سیاسی مشورہ دیں گے۔