سرحدی اضلاع میں ٹریفک جام ، ایمبولینس کیلئے بھی پاس کی شرط
حیدرآباد۔ پڑوسی ریاستوں سے پاس کے بغیر تلنگانہ کی سرحد میں گاڑیوں کی منتقلی پر پابندی کے بعد سے کئی اضلاع میں آندھرا پردیش سے آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا ہے۔ آندھرا پردیش سے متصل سرحدی اضلاع کے چیک پوسٹ پر محبوب نگر، گدوال، نلگنڈہ اور دیگر اضلاع میں گاڑیوں کو روک دیا گیا۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس مہیندر ریڈی نے پڑوسی ریاستوں سے گاڑیوں کی آمدورفت کو روکنے کیلئے سرحدوں کی ناکہ بندی کی ہدایت دی تھی۔ آندھرا پردیش سے آنے والی صرف اُن گاڑیوں کو داخلہ کی اجازت دی جارہی ہے جن کے پاس پولیس کی جانب سے جاری کردہ ای ۔ پاس موجود ہو۔ ایمبولینس کے علاوہ ضروری سامان منتقل کرنے والی گاڑیوں کیلئے بھی ای ۔ پاس کے حصول کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد اضلاع کی سرحدوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جارہی ہیں جنہیں چیک پوسٹ سے گذرنے کی اجازت نہیں ہے۔ سوریا پیٹ، گدوال اور نلگنڈہ ضلع میں گاڑیوں کی طویل قطار کے باعث ٹریفک میں خلل پڑا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے دوران آندھرا پردیش میں پاس کے بغیر کئی گاڑیاں تلنگانہ میں داخل ہورہی تھیں تاہم حکومت نے سرحد پار کرنے والی گاڑیوں کیلئے ای ۔ پاس کو لازمی قرار دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پڑوسی ریاستوں میں کورونا کے کیسس زیادہ ہیں لہذا گاڑیوں کو بغیر کسی جانچ کے داخلہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریاست میں کورونا پر قابو پانے کیلئے گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی کا فیصلہ معاون ثابت ہوگا۔نلگنڈہ سے متصل آندھرا پردیش کی سرحد پر گاڑی مالکین کو پولیس کے ساتھ بحث و تکرار کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایمبولنس ہو یا پھر اجناس منتقل کرنے والی گاڑیاں ہر کسی کیلئے پولیس کی جانب سے جاری کردہ ای ۔ پاس کا حصول ضروری ہے۔ کئی خانگی گاڑیوں میں عوام کو غیر قانونی طور پر منتقل کیا جارہا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آندھرا پردیش کے مختلف علاقوں سے صبح 4 بجے سے مختلف گاڑیاں نکل رہی ہیں اور 6 بجے سرحد پر پہنچ رہی ہیں تاکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے آغاز کے ساتھ ہی تلنگانہ میں داخل ہوجائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں بیشتر افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔ حال ہی میں پولیس نے ایمبولینس گاڑیوں کو بھی داخلہ کی اجازت نہیں دی تھی جس کے بعد ہائی کورٹ نے مداخلت کی۔ پولیس کی جانب سے ایمبولنس کیلئے بھی ای ۔ پاس کے حصول کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔