اے این پی کے بعد پیپلز پارٹی کا پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان

   

Ferty9 Clinic

اسلام آباد : پاکستان پیپلز پارٹی نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے شوکاز نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے اتحاد کے تمام عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کے بعد پیر کو کراچی میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کوئی بھی جماعت ان پر اپنے فیصلے مسلط نہ کرے۔ ماضی میں ملک میں بننے والے سیاسی اتحادوں میں کبھی شوکاز نوٹسز دینے کی روایت نہیں رہی۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سیاست عزت اور برابری کی بنیاد پر ہوتی ہے اور اس پر ہم کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اْنہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہیں یا پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو زرداری سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔یاد رہے کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے حکومتی بینچز کے سینیٹرز سے ووٹ لینے پر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔اپوزیشن کے حکومت مخالف اتحاد میں پہلی دراڑ اس وقت پڑی تھی جب عوامی نیشنل پارٹی نے شوکاز نوٹس ملنے پر اتحاد سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔پی ڈی ایم کے مستقبل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم کی بنیاد اْنہوں نے رکھی تھی۔ لہذٰا پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر یہ صرف ‘استعفوں کا اتحاد’ رہ جائے گا۔اْن کا کہنا تھا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ ایٹم بم ہے اور یہ آخری اپشن ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کو ورکنگ ریلیشن شپ رکھنا چاہیے۔ تاہم جب تک پیپلزپارٹی اور اے این پی سے غیر مشروط معافی نہیں مانگی جاتی اس وقت تک آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم پوچھتے ہیں کہ 26 مارچ کے لانگ مارچ کو استعفوں سے مشروط کیوں کیا گیا؟