فرضی دستاویزات اور مکان نمبرات کے ذریعہ گفٹ رجسٹری کروانے کا جھانسہ
حیدرآباد ۔ سرکاری اراضی کی خرید و فروخت کے معاملہ میں اینٹی کرپشن بیورو نے 8 افراد کو گرفتار کرلیا اور اے سی پی ملکاجگیری نرسمہا ریڈی کے ساتھ اس معاملہ میں ملوث پائے گئے ۔ اے سی بی کے مطابق اے سی پی نے بی سجن گوڑ ، پی تروپتی ریڈی ، وائی چندرا شیکھر اور اے جئے پال ، مدھوکر سری رام ، بنڈی چندرا ریڈی ، بی رامیش اور اے سرینواس ریڈی کو گرفتار کرلیا ۔ نرسمہا ریڈی سابق اے سی پی ملکاجگیری نے 4 پلاٹس پر مشتمل 1960 اسکوائر یارڈ اراضی پہلے 4 افراد سے اپنی بیوی وائی منگا اور دیگر 4 افراد کے نام پر خریدی تھی ۔ اے سی پی جو نرسمہا ریڈی کے غیر محسوب اثاثہ جات کی تحقیقات کر رہی ہے ۔ تحقیقات کے دوران ان پلاٹس کا معاملہ منظر عام پر آیا ۔ اس اراضی کو حکومت نے اے پی آئی آئی سی اور حڈا کو مختص کیا تھا ۔ فرضی دستاویزات اور فرضی مکان نمبرات کو درج کرتے ہوئے سال 2016 میں اپنے والد سے گفت ڈیڈ کروایا تھا ۔ اور اس ملکیت کو اپنے والد کی ملکیت ظاہر کیا تھا اور سال 2018 میں ان پلاٹس کو سابق اے سی پی نرسمہا ریڈی نے ان کی بیوی اور دیگر بتائے گئے افراد کے نام پر خرید لیا ۔ ان پلاٹس کی مالیت 4 کروڑ بتاتے ہوئے 80 لاکھ روپئے میں خرید لیا ۔ جبکہ ان کی سرکاری قیمت 6 کروڑ بتائی گئی ہے ۔ اور مارکٹ والیو 50 کروڑ ہے ۔ اے سی بی نے خرید و فروخت کرنے والوں کو سازش کا حصہ قرار دیا۔ ایٹی کرپشن بیورو نے گرفتار افراد کو خصوصی عدالت میں پیش کیا ۔