اے ٹی ایم سنٹرس پر سارقوں کی ٹولیاں سرگرم

   

چارمینار پولیس کے ہاتھوں ٹولی کی گرفتاری کے بعد سرقوں کے طریقوں کا انکشاف
حیدرآباد۔/17نومبر، ( سیاست نیوز) شہر و نواحی علاقوں میں سرقہ اور رہزنی کی وارداتوں میں پھر اضافہ ہورہا ہے۔ مجرمین پر نظر رکھنے والیے پولیس جرائم کی روک تھام میں ناکامی کے الزامات کا سامنا کررہی ہے اور حیدرآباد سٹی پولیس کے علاوہ اطراف کمشنریٹ کی پولیس ان دنوں کیمرہ میں شناخت اور پہچان کی طرح کا سامنا کررہی ہے۔ متاثرین اور باشعور شہریوں کی جانب سے کیمرہ پولیس کیا جانے لگا ہے۔ چوراہوں پر ٹریفک جام کا مسئلہ ہو یا پھر کوئی واردات کی تحقیقات ہو پولیس ایک مقام پر منظر کشی تو دوسرے مقام پر منظر کی جانچ کے ذریعہ کیمروں پر انحصار کررہی ہے اور چور، اُچکے ، سارق، رہزن ، لٹیرے آسانی سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں۔ گزشتہ روز چارمینار پولیس کی ایک کارروائی میں گرفتار ٹولی اور ان کے انداز سے خود یہ بات سامنے آرہی ہے کہ ایسی بدنام زمانہ ٹولیاں بہ آسانی اپنا کام کررہی ہیں۔ اے ٹی ایم سنٹرز کو نشانہ بنانے والی اس ٹولی کے لئے نہ ہتھوڑے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی اسکرو ڈرائیور کی یاپھر کٹر کی بس وہ اے ٹی ایم سے رقم کو باآسانی نکال لیتے ہیں۔ ان سارقوں کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ پولیس سے نہیں بلکہ سی سی ٹی وی کیمروں سے چوکس رہتے ہیں ۔کیمروں میں قید ہوئے بغیر اپنا کوئی سراغ نہیں چھوڑتے اور رقم کا سرقہ کرلیتے ہیں۔ مختلف بینکس میں اپنا کھاتہ کھولنے والی یہ ہریانہ کی ٹولی صرف ایس بی آئی کے اے ٹی ایم کو اپنا نشانہ بناتی ہے۔ ایسے اے ٹی ایم سنٹر پہنچتے ہیں جہاں سیکورٹی گارڈ نہیں ہوتا۔ مشین میں رقم کیلئے کارڈ ڈالنے کے بعد جیسے ہی رقم مشین سے نکلنا شروع ہوتی ہے درمیان میں مشین کو بند کردیا جاتا ہے اور بینک سے شکایت کی جاتی ہے۔ بینک کی شرائط کے مطابق بینک سے ڈرا کی گئی رقم اگر کھاتہ دار تک نہیں پہونچتی ہے تو چار دن میں کھاتہ دار کے اکاؤنٹ میں جمع کرنی ہوتی ہے۔ اس شرط کی آڑ میں بینک اے ٹی ایم کو لوٹا جارہا ہے۔ اس طرح کے شاطر سارقوں کا پتہ چلانے میں سٹی پولیس کو سخت امتحان کا سامنا کرنا پر رہا ہے ۔ ع