اے پی میں بیرونی ریاستوں سے شہروں کی واپسی کیلئے تیاریاں

,

   

ایک لاکھ بستروں پر مشتمل قرنطینہ سہولیات تیار کرنے چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی ہدایت
امراوتی 2 مئی ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے ہزاروں شہری جو ملک کی مختلف ریاستوں اور بیرون ملک میں بھی پھنسے ہوئے ہیں امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں ریاست واپس ہوجائیں گے ۔ چیف منسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے آج حکام کو ہدایت دی کہ وہ کم از کم ایک لاکھ بستروں پر مشتمل قرنطینہ سہولیات کی تیاری کریں۔ چیف منسٹر نییہاں ایک اعلی سطح کا اجلاس منعقد کیا اور تارکین وطن مزدوروں اور دوسرے پھنسے ہوئے افراد کی نقل و حرکت پر پابندیوں میں نرمی کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔ اجلاس میں وزارت داخلہ کی جانب سے مختلف زونس کی تقسیم کے بعد پابندیوں میں نرمی سے متعلق رہنما خطوط کا جائزہ لیا گیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ( ہیلت ) اے کے کے سرینواس ‘ وزیر زراعت کے کنا بابو ‘ چیف سکریٹری نیلم ساہنی اور دوسرے اعلی عہدیداروں نے اجلاس میںشرکت کی ۔ دفتر چیف منسٹر سے جاری ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف منسٹر نے تجویز کیا کہ ہر ضلع میں ولیج سیکریٹریٹس قائم کئے جائیں اور اسے ایک یونٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دس تا پندرہ بستروں پر مشتمل قرنطینہ سہولت کا آغاز کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پنچایت راج محکمہ اور آنگن واڑی کے ذریعہ گاووں میں قرنطینہ سہولیات کا جائزہ لیا جاتا رہے ۔ چیف منسٹر نے آر ٹی سی کی 500 بسوں کو بھی کارگو کیرئیر میں تبدیل کرنے کی ہدایت دی تاکہ اشیائے ضروریہ کی منتقلی عمل میں لائی جاسکے ۔ علاوہ ازیں بسوں میں فریزنگ سہولیات ممکنہ حد تک فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ ڈیری اشیا ‘ انڈے ‘ ترکاریاں اور میوے جات کی منتقلی عمل میں لائی جاسکے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں سے کہا کہ وہ مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایات کے مطابق کورونا کنٹینمنٹ زونس کی نشاندہی کریں اور وہاں تمام تر پروٹوکول کی پابندی کی جائے ۔ جگن نے کہا کہ کنٹینمنٹ زونس میں عوام کی نقل و حرکت پر سختی سے روک لگائی جانی چاہئے ۔ تمام دوکانات وغیرہ کیلئے بھی جو رہنما خطوط ہیں ان کی پابندی کی جانی چاہئے ۔