اے پی میں خاتون کانسٹیبل کی فرض شنا سی

   

ڈیوٹی ختم ہونے پر بھی ٹریفک میں پھنسی ایمبولنس کو باہر نکالا
حیدرآباد۔ 20 جنوری (سیاست نیوز) آندھرا پردیش میں ایک خاتون کانسٹیبل نے ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد گھر واپسی کے دوران بھی اپنے فرائض کو انجام دیتے ہوئے محکمہ پولیس کیلئے ایک مثال قائم کی ہے جس کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے ڈیوٹی انجام دیتے وقت ایک بچہ کو ایک ہاتھ میں رکھتے ہوئے ڈیوٹی انجام دی۔ خاتون کانسٹیبل نے ٹریفک میں پھنسی ایمبولنس کو باہر نکالتے ہوئے ٹریفک کو بحال کیا۔ تفصیلات کے مطابق جئے شانتی کاکیناڈا ضلع کے شکھاورم گاؤں سے تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے 2016 میں کانسٹیبل کا امتحان پاس کیا اور کانسٹیبل کے طور پر منتخب ہوئی اور اپنی پہلی ڈیوٹی کو کاورم پولیس اسٹیشن سے شروع کی۔ پانچ سال تک ریلوے پولیس میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد ان کا تبادلہ پانچ ماہ قبل رنگم پیٹ پولیس اسٹیشن میں کیا گیا۔ ہفتہ کی رات وہ اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد اپنے گھر کاکیناڈا جانے کے لئے اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کے ساتھ بس کے انتظار میں ٹھہری ہوئی تھی اس وقت اس کے رشتہ دار کار میں کاکیناڈا جارہے تھے اور وہ کار میں سوار ہوگئی۔ کاکیناڈا۔ سامرلاکوٹہ روڈ پر ٹریفک جام ہوگئی اور اس ٹریفک میں ایک ایمبولنس بھی پھنس گئی تھی۔ وہ اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد بھی اپنے فرائض کو انجام دینے کے لئے کار سے اتر گئی ایک ہاتھ میں اپنے ڈھائی سالہ بیٹے کو لئے اس نے ٹریفک میں پھنسی ایمبولنس کو باہر نکالا اور تمام ٹریفک کو بھی بحال کیا۔ اطلاع ملتے ہی مقامی ٹریفک پولیس مقام پر پہنچ گئی تب تک اس نے ٹریفک کو بحال کردیا تھا۔ اس پورے منظر کو چند افراد نے اپنے فون میں ریکارڈ کیا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی۔ مشرقی گوداوری کے ایس پی نرسمہا کشور نے جئے شانتی کے اس کارنامہ کی ستائش کی اور اسے ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ش